Home » سیاسی رکاوٹیں،سفری مشکلات اور آخری لمحے کا جھٹکا،ایران فٹ بال ورلڈ کپ سے باہر،میدان میں جیت نہ ہار،مگر قسمت ہار گئی

سیاسی رکاوٹیں،سفری مشکلات اور آخری لمحے کا جھٹکا،ایران فٹ بال ورلڈ کپ سے باہر،میدان میں جیت نہ ہار،مگر قسمت ہار گئی

by ahmedportugal
9 views
A+A-
Reset

کنساس(ایگزو نیوز ڈیسک)سیاسی رکاوٹوں، غیر معمولی سفری مشکلات اور آخری لمحات کے ڈرامائی واقعات کے باعث ایران کی قومی فٹبال ٹیم فیفا ورلڈ کپ سے ناک آوٹ مرحلے میں رسائی حاصل نہ کر سکی،حالانکہ ٹیم نے پورے گروپ مرحلے میں کوئی میچ نہیں ہارا۔میدان میں مضبوط کارکردگی کے باوجود قسمت اور حالات ایران کے حق میں نہ آ سکے اور ایک سنسنی خیز اختتام کے بعد ٹیم ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔
ایگزو نیوز کے مطابق فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ایران کی قومی فٹبال ٹیم ناک آوٹ مرحلے تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہی تاہم ٹیم کا مجموعی سفر غیر معمولی حالات،سیاسی کشیدگی،سفری مشکلات اور آخری لمحات کی ڈرامائی صورتحال کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔ایران نے نہ صرف میدان کے اندر سخت مقابلہ کیا بلکہ میدان کے باہر بھی متعدد چیلنجز کا سامنا کیا،جس نے اس کی کارکردگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ایرانی ٹیم ایک ایسے وقت میں امریکا پہنچی جب ایران اور امریکا کے درمیان سیاسی تعلقات کشیدہ تھے،جس کے باعث ٹیم کی شرکت بھی آخری وقت تک غیر یقینی کا شکار رہی۔تمام تر خدشات کے باوجود ٹیم ٹورنامنٹ میں شریک ہوئی اور گروپ مرحلے کے اختتام تک ناک آوٹ مرحلے کی دوڑ میں شامل رہی،حالانکہ وہ ایک بھی میچ نہیں ہاری۔

گروپ مرحلے کے پہلے میچ میں ایران نے لاس اینجلس میں نیوزی لینڈ کے خلاف 2-2 سے ڈرا کھیلا تاہم میچ کے فوری بعد ٹیم کو امریکا میں قیام کی اجازت نہ دی گئی اور اسے میکسیکو کے شہر تیخوانا میں اپنے بیس کیمپ واپس بھیج دیا گیا۔اس فیصلے پر ٹیم کے کپتان مہدی طارمی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کو جسمانی بحالی کے لیے مناسب وقت اور سہولیات فراہم نہیں کی گئیں جبکہ ٹیم انتظامیہ نے بھی اسے غیر پیشہ ورانہ قرار دیا۔رپورٹس کے مطابق ویزا مسائل کے باعث ایران کے کئی اہم عہدیدار،میڈیا نمائندگان اور سپورٹ سٹاف ٹیم کے ساتھ موجود نہ رہ سکے،جس سے انتظامی امور متاثر ہوئے۔مزید برآں،سیاسی اور امیگریشن خدشات کے پیش نظر ایران کو امریکا کے شہر ٹکسن میں قائم اپنا بیس کیمپ چھوڑ کر تیخوانا منتقل کرنا پڑا،جس کے بعد ہر میچ کے لیے ٹیم کو امریکا اور میکسیکو کی سرحد عبور کرتے ہوئے تقریباً پانچ گھنٹے کا طویل سفر کرنا پڑا۔

میچوں کے بعد پریس کانفرنسز میں بھی فیفا حکام کی جانب سے ایرانی کھلاڑیوں کو سیاسی معاملات پر بات کرنے سے روکنے کی کوششوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا۔ایران کا آخری گروپ میچ مصر کے خلاف انتہائی سنسنی خیز رہا،جہاں ابتدائی برتری کے بعد ایران نے مقابلہ برابر کیا اور جیت کے لیے بھرپور کوشش کی۔اضافی وقت میں شجاع خلیل زادہ کا کیا گیا گول وقتی طور پر ایران کو اگلے مرحلے میں لے جاتا دکھائی دیا تاہم وی اے آر کے ذریعے اسے آف سائیڈ قرار دے کر مسترد کر دیا گیا،جس کے بعد میچ 1-1 سے برابر ختم ہوا۔ایران کی امیدیں دیگر گروپ کے نتائج سے وابستہ تھیں،جہاں الجزائر اور آسٹریا کے درمیان میچ فیصلہ کن حیثیت اختیار کر گیا۔اضافی وقت میں الجزائر کی برتری نے ایران کی امیدوں کو زندہ رکھا لیکن آخری لمحے میں آسٹریا کے برابر گول نے نہ صرف میچ ڈرا کر دیا بلکہ ایران کی ناک آوٹ مرحلے میں رسائی کی آخری امید بھی ختم کر دی۔یوں ایران کا ورلڈ کپ 2026 کا سفر اختتام کو پہنچا،جو ایک طرف میدان میں شاندار مقابلے اور دوسری جانب میدان سے باہر غیر معمولی رکاوٹوں کی کہانی بن کر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز