تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی تنصیبات پر جوابی کارروائی تیز کرتے ہوئے میزائل حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیل کے مختلف شہروں میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات ہیں۔ ادھر کویت میں امریکی ایف-15 لڑاکا طیارے کے تباہ ہونے کی تصدیق کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے،تل ابیب سے کویت سٹی تک سائرن گونج رہے ہیں،خلیجی ریاستوں میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے اور خطہ ایک خطرناک موڑ پر کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملوں کے ایک نئے سلسلے کے آغاز کے بعد خطے میں کشیدگی غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق مغربی یروشلم میں ہونے والے حملے میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے جبکہ مختلف مقامات پر گاڑیوں اور املاک کو شدید نقصان پہنچا۔ مقبوضہ بیت المقدس میں ایک میزائل گرنے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔رپورٹس کے مطابق تل ابیب، یروشلم اور مغربی کنارے کے علاقوں میں سائرن بج اٹھے اور شہریوں کو بنکروں میں منتقل کیا گیا۔ اسرائیلی حکام نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کے حوالے سے باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کیں تاہم مقامی میڈیا نقصانات کی تصدیق کر رہا ہے۔
خلیجی ممالک میں بھی صورتحال کشیدہ دیکھی گئی۔ کویت سٹی میں امریکی سفارتخانے کے قریب دھواں اٹھتے دیکھا گیا،جس کے بعد فائر فائٹرز اور ایمبولینسز موقع پر پہنچ گئیں۔سفارت خانے نے اپنی ویب سائٹ پر شہریوں کو ہدایت جاری کی کہ وہ سفارت خانے کی جانب نہ آئیں،گھروں کی نچلی منزل پر پناہ لیں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔بیان میں ملک میں میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرے سے خبردار کیا گیا۔ادھر مناما،دوہا،ابوظہبی اور دبئی میں میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق دوحہ اور دبئی میں زور دار دھماکوں اور جنگی طیاروں کی پروازوں کی آوازیں رپورٹ ہوئیں۔بحرین کی وزارت داخلہ نے فضائی حملے کے سائرن فعال کرنے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت کی جبکہ منامہ کو ملانے والا شیخ خلیفہ بن سلمان پل عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔
عراق کے خودمختار کرد خطے کے دارالحکومت اربیل میں بھی شدید دھماکوں کی اطلاعات ملیں۔ذرائع کے مطابق اربیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو عراقی فضائی دفاعی نظام نے روکنے کی کارروائی کی۔کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق کویت سٹی کے قریب مینا الاحمدی آئل ریفائنری میں ملبہ گرنے سے دو کارکن معمولی زخمی ہوئے۔دوسری جانب کویتی وزارت دفاع کے ترجمان نے سوشل میڈیا بیان میں متعدد امریکی فوجی طیارے گر کر تباہ ہونے کی تصدیق کی تاہم وجوہات نہیں بتائیں۔بیان کے مطابق تمام عملہ محفوظ ہے اور تلاش و بچاو کی کارروائیوں کے بعد انہیں طبی معائنے کے لیے منتقل کر دیا گیا۔ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ملکی حدود کی خلاف ورزی پر ایک امریکی ایف-15 لڑاکا طیارہ ایرانی فضائی دفاع نے مار گرایا جو بعد ازاں کویت میں گر کر تباہ ہوا۔روسی میڈیا نے بھی ایف-15 کے گرنے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ پائلٹ ایجیکٹ کرنے میں کامیاب رہا اور زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ان دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ایرانی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے کویت میں امریکی علی السالم ایئر بیس اور شمالی بحر ہند میں موجود جہازوں کو نشانہ بنایا اور کارروائی میں 15 کروز میزائل استعمال کیے گئے۔ایرانی حکام کے مطابق امریکی فوجی اڈے کو ”مکمل طور پر ناکارہ“ بنا دیا گیا ہے تاہم امریکی یا کویتی حکام کی جانب سے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔
ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانینے امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان دیا کہ ایران واشنگٹن سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔ان کا بیان امریکی اخبار دی وال سٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایرانی قیادت کی سطح پر عمانی ثالثوں کے ذریعے جوہری مذاکرات کی بحالی کی کوشش کی گئی۔واضح رہے کہ ہفتے کے روز امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد تہران نے خطے میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔موجودہ پیش رفت کے بعد خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور مختلف فریقین کے دعووں اور جوابی بیانات کے باعث حقائق کی آزادانہ تصدیق کا عمل جاری ہے۔علاقائی اور عالمی مبصرین کے مطابق حالیہ واقعات مشرقِ وسطیٰ کو ایک وسیع تر تصادم کے دہانے پر لے جا سکتے ہیں۔