نیویارک(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سفارتی محاذ پر ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے،جہاں ایران نے مذاکرات کے دروازے بند کرتے ہوئے جنگ بندی اور مزید بات چیت سے انکار کر دیا ہے،اس صورتحال نے خطے میں غیر یقینی اور تناو کو مزید بڑھا دیا ہے جبکہ عالمی سطح پر ممکنہ نتائج کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے،اس فیصلے کے بعد سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے اور تنازع کے پرامن حل کے امکانات محدود ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق معروف امریکی اخبار ”نیو یارک ٹائمز“نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے جنگ بندی مذاکرات سے مکمل طور پر دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا ہے،جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں،ایرانی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی دباو یا دھمکی کے تحت مذاکرات جاری نہیں رکھے گی اور سیز فائر پر مزید بات چیت کا کوئی امکان نہیں رہا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام نے اپنے اس فیصلے سے پاکستان کو بھی آگاہ کر دیا ہے،جو دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں ایک اہم کردار ادا کر رہا تھا۔ایران کا موقف ہے کہ محض امریکی وعدوں کے بدلے آبنائے ہرمز کو کھولنا ممکن نہیں اور اس حوالے سے کسی قسم کی نرمی اختیار نہیں کی جائے گی۔
خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی ذرائع نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکا کی جانب سے سرنڈر جیسے مطالبات کے ہوتے ہوئے ایران کسی قسم کی لچک کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے سنگین علاقائی اثرات مرتب ہوں گے اور اہم بحری گزرگاہوں کو بند کرنے جیسے اقدامات بھی زیر غور آ سکتے ہیں۔ادھر امریکی قیادت کی جانب سے ایران پر دباو بڑھانے کا سلسلہ جاری ہے،جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بار ڈیڈ لائنز دے کر سخت موقف اختیار کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے شرائط قبول نہ کیں تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔امریکی بیانات میں سخت زبان کے استعمال نے خطے میں بے یقینی اور خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے مذاکرات ختم کرنے کا فیصلہ خطے میں جاری کشیدگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر سکتا ہے، جہاں سفارتی حل کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں اور تصادم کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی سفارتی کوششیں بھی ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔