نیویارک(ایگزو نیوز ڈیسک)اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ایران اور امریکا کے درمیان ثالثوں کے ذریعے سفارتی رابطوں کی اطلاعات کے باوجود ایرانی وفد نے امریکا کے ساتھ نئے مذاکرات کے امکان کی تردید کردی ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایرانی وفد کے قریب ایک ذریعے نے کہا ہے کہ نیویارک میں امریکی وفد کے ساتھ کسی نئے دور یا بالمشافہ مذاکرات کا کوئی منصوبہ طے شدہ پروگرام میں شامل نہیں۔رپورٹ کے مطابق تہران نے گزشتہ ہفتے قطری ثالث کے ذریعے واشنگٹن تک اپنے تحفظات اور موقف پہنچا دیے تھے اور اب ایران امریکی ردعمل کا منتظر ہے۔ایرانی ذریعے کے مطابق اسی وجہ سے ایرانی وفد کے موجودہ پروگرام میں امریکی فریق کے ساتھ مذاکرات کا کوئی نیا دور شامل نہیں کیا گیا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ نیویارک میں اپنے طے شدہ سفارتی اور دیگر پروگرام مکمل کرنے کے بعد منگل کو وطن واپس روانہ ہوں گے۔اس دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ہیں۔
ایرانی وفد کی جانب سے نئے مذاکرات کی تردید ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مزید مذاکرات رواں ہفتے ہوسکتے ہیں۔امریکی جانب سے مذاکرات کے امکان کا اظہار اور ایرانی وفد کی جانب سے نیویارک میں نئے مذاکرات کی تردید دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کی موجودہ پیچیدہ صورتِ حال کو ظاہر کرتی ہے۔دوسری جانب امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جوہری تنازع اور دیگر معاملات پر ثالثوں کے ذریعے رابطے جاری ہیں اور ان رابطوں کو رپورٹ میں مثبت اور تعمیری قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق قطر اس سفارتی عمل میں مرکزی ثالث کا کردار ادا کررہا ہے،اگرچہ امریکی صدر کی جانب سے تہران کی حالیہ تجویز مسترد کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے گزشتہ ہفتے نیویارک میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی،جس میں امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدے اور موجودہ تنازع کے سفارتی حل سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس سے قبل ایران نے آبنائے ہرمز کی صورتِ حال اور جاری تنازع کے خاتمے کے لیے ایک تجویز ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچائی تھی۔ روئٹرز کے مطابق ایرانی حکام نے کہا تھا کہ اگر امریکا فوجی دباو کم کرے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکا بندی ختم کرے تو ایران ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہے۔ایرانی موقف کے مطابق تہران کی تجویز میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کی بحالی اور امریکا کے ساتھ وسیع تر معاملات پر سفارتی پیش رفت شامل ہے۔ تاہم واشنگٹن کی جانب سے اس تجویز کو مسترد کیے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتِ حال برقرار ہے۔ایران نے ماضی کے مذاکرات کے تجربے کی بنیاد پر امریکا کے ساتھ اعتماد کے بحران کا بھی اظہار کیا ہے۔ایرانی حکام کا موقف ہے کہ سابقہ مفاہمت کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال نے تہران کے اعتماد کو متاثر کیا، اسی لیے مستقبل میں کسی بھی معاہدے کے لیے واضح شرائط اور ضمانتوں کی ضرورت ہوگی۔
دوسری جانب علاقائی ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔قطر کے علاوہ پاکستان،عمان اور ترکیہ بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششوں میں کردار ادا کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا موجودہ اجلاس ایسے وقت میں ہورہا ہے جب آبنائے ہرمز،ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں جاری فوجی کشیدگی عالمی سفارت کاری کے اہم موضوعات میں شامل ہیں۔موجودہ صورتِ حال میں ایک طرف امریکی صدر کی جانب سے مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی توقع ظاہر کی جارہی ہے اور دوسری جانب ایرانی وفد کا کہنا ہے کہ نیویارک میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کا کوئی نیا دور اس کے پروگرام میں شامل نہیں تاہم ثالثوں کے ذریعے رابطوں کی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی چینلز مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ایرانی وفد کی جانب سے نئے مذاکرات کی تردید کے باوجود قطر کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ اور دیگر ثالثوں کی سفارتی سرگرمیاں جاری رہنے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں،جس کے باعث آئندہ دنوں میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی رابطوں کی سمت اہمیت اختیار کرگئی ہے۔فی الحال تہران کا کہنا ہے کہ وہ اپنا موقف امریکا تک پہنچا چکا ہے اور اب واشنگٹن کے جواب کا منتظر ہے۔