تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران نے خطے میں بڑھتی ہوئی بحری کشیدگی کے دوران چابہار سے خلیج عمان اور بحیرہ عرب کے بعض حصوں تک ایک محدود بحری علاقہ قائم کرنے کا اعلان کردیا ہے،جس کے بعد اس اہم سمندری گزرگاہ میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ چابہار سے متصل سمندری حدود کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب کے بعض حصوں تک محدود زون کی شکل دی جائے گی تاہم اس مجوزہ علاقے کی حتمی حدود اور جغرافیائی نقاط فی الحال جاری نہیں کیے گئے اور ایرانی حکام کے مطابق ان کی تفصیلات بعد میں سامنے لائی جائیں گی۔پاسداران انقلاب کے ترجمان کے مطابق جو بحری جہاز ایرانی حکام سے رابطہ کیے بغیر اس مخصوص علاقے سے گزرنے کی کوشش کریں گے،انہیں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تاہم ایران کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ خلاف ورزی کی صورت میں جہازوں یا ان کے عملے کے خلاف کس نوعیت کی کارروائی یا پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
ایرانی اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوچکا ہے اور آبنائے ہرمز سمیت اہم سمندری راستوں میں تجارتی جہازوں کی سلامتی اور آمدورفت پر عالمی سطح پر تشویش پائی جارہی ہے۔اس سے قبل اتوار کو ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے بھی عندیہ دیا تھا کہ تہران آئندہ چند روز کے دوران آبنائے ہرمز سے باہر ایک محدود بحری زون قائم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔تازہ اعلان کو اسی پالیسی کا تسلسل قرار دیا جارہا ہے۔چابہار ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں خلیج عمان کے ساحل پر واقع ایک اہم بندرگاہ ہے۔اس بندرگاہ کو ایران کی خصوصی جغرافیائی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ ملک کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر براہ راست بحر ہند تک رسائی فراہم کرتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مجوزہ بحری زون کی حدود میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے ایرانی حکام سے پیشگی رابطے کی شرط عائد کی جاتی ہے تو اس سے خطے میں بحری نقل و حرکت مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔خاص طور پر خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے گزرنے والی عالمی تجارت کے لیے اضافی سکیورٹی اور آپریشنل خدشات پیدا ہونے کا امکان ہے۔ایران کی جانب سے بحری حدود محدود کرنے کا اعلان ایسے مرحلے پر کیا گیا ہے جب آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے۔اس صورتحال میں کسی بھی نئی پابندی یا بحری نقل و حرکت میں رکاوٹ سے نہ صرف علاقائی تجارت بلکہ عالمی سپلائی چین اور توانائی کی ترسیل بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ایرانی حکام کی جانب سے مجوزہ محدود بحری علاقے کی مکمل تفصیلات اور اس کے نفاذ کے طریقہ کار کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا۔ان تفصیلات کے سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ نئے بحری زون کا دائرہ کار کتنا وسیع ہو گا اور بین الاقوامی جہاز رانی پر اس کے عملی اثرات کس حد تک مرتب ہوسکتے ہیں۔