اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران کے ساتھ حالیہ جنگی صورتحال نے امریکا کی عسکری طاقت اور دفاعی حکمتِ عملی کو غیر معمولی دباو میں ڈال دیا ہے،جہاں اربوں ڈالر مالیت کے جدید ہتھیاروں کے وسیع استعمال کے باعث اسلحہ ذخائر میں خطرناک حد تک کمی کا انکشاف سامنے آیا ہے۔نیویارک ٹائمز کی تازہ رپورٹ نے امریکی دفاعی تیاری،وسائل کی دستیابی اور عالمی سطح پر فوری ردعمل کی صلاحیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور حالیہ جنگی صورتحال نے امریکا کے جدید اسلحہ ذخائر اور دفاعی صلاحیت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، جس کا انکشاف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک تفصیلی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق قلیل عرصے میں بڑے پیمانے پر مہنگے اور جدید ہتھیاروں کے استعمال نے نہ صرف امریکی اسلحہ ذخائر میں نمایاں کمی پیدا کی بلکہ اس کی عالمی دفاعی تیاری اور فوری ردعمل کی صلاحیت پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد امریکا نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے تقریباً 1100 جاسم ای آر اسٹیلتھ کروز میزائل استعمال کیے،جن میں سے ہر ایک کی قیمت تقریباً 1.1 ملین ڈالر ہے۔اس کے علاوہ ایک ہزار سے زائد ٹوماہاک کروز میزائل بھی فائر کیے گئے،جو امریکا کی سالانہ پیداوار سے کئی گنا زیادہ ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ میزائل بنیادی طور پر چین جیسے ممکنہ حریفوں کے خلاف استعمال کے لیے محفوظ رکھے گئے تھے۔اسی طرح امریکی فوج نے 1200 سے زائد پیٹریاٹ فضائی دفاعی میزائل استعمال کیے،جن میں سے ہر ایک کی قیمت چار ملین ڈالر سے زائد بتائی جاتی ہے۔زمینی حملوں میں بھی ایک ہزار سے زائد جدید میزائل استعمال کیے گئے،جس کے نتیجے میں امریکا کے سٹریٹجک ذخائر خطرناک حد تک کم ہو گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اس بڑے پیمانے پر اسلحہ استعمال کے باعث امریکا کو ایشیا اور یورپ میں تعینات اپنے کمانڈز سے ہتھیار مشرق وسطیٰ منتقل کرنا پڑے،جس سے دیگر خطوں میں دفاعی تیاری متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے روس اور چین جیسے حریفوں کے خلاف فوری عسکری ردعمل کی صلاحیت کمزور ہو سکتی ہے۔
امریکی حکام اور کانگریس ارکان کے مطابق اس جنگ نے ایک اور اہم مسئلے کو بھی اجاگر کیا ہے،وہ یہ کہ امریکی دفاعی نظام مہنگے اور محدود پیداوار والے ہتھیاروں پر حد سے زیادہ انحصار کرتا ہے۔ اسی وجہ سے اب دفاعی صنعت پر دباو بڑھ رہا ہے کہ وہ کم لاگت اور زیادہ موثر ہتھیاروں،خصوصاً ڈرون ٹیکنالوجی کی پیداوار میں اضافہ کرے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ صرف 38 دنوں کے دوران امریکا نے 13 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا تاہم متعدد بار حملوں کے باعث استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ رہی۔دو آزاد تحقیقی اداروں کے مطابق اس جنگ کی مجموعی لاگت 28 سے 35 ارب ڈالر کے درمیان رہی،جو یومیہ تقریباً ایک ارب ڈالر کے اخراجات کے برابر بنتی ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ کئی دہائیوں میں پہلی بار مشرق وسطیٰ میں بیک وقت تین امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے تعینات کیے گئے ہیں،جن میں یو ایس ایس ابراہم لنکن،یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اور یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش شامل ہیں۔ان بیڑوں کے ساتھ 200 سے زائد جنگی طیارے اور تقریباً 15 ہزار اہلکار تعینات ہیں،جو خطے میں امریکی عسکری موجودگی کو غیر معمولی سطح پر لے گئے ہیں۔حکام کے مطابق یہ تعیناتی ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں کی گئی ہے، جبکہ جنگ بندی کے باوجود صورتحال مکمل طور پر مستحکم نہیں ہو سکی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو امریکا کو اپنے دفاعی وسائل کی بحالی اور حکمت عملی پر فوری نظرثانی کرنا پڑے گی۔