نیویارک(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکا میں مہنگائی کی شرح میں حالیہ اضافہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے اثرات کے باعث دیکھا جا رہا ہے، جس سے معیشت پر دباو بڑھ گیا ہے اور افراطِ زر ایک بار پھر بلند سطح پر پہنچ گیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے اثرات اب امریکی معیشت پر بھی نمایاں طور پر ظاہر ہونے لگے ہیں،جہاں مہنگائی میں ایک بار پھر تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔اقتصادی ماہرین کے مطابق یہ اضافہ عالمی تیل و گیس کی سپلائی میں رکاوٹوں اور توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاو کا نتیجہ ہے۔سرکاری و معاشی اعداد و شمار کے مطابق صارفین کی قیمتوں کے اشاریے میں ماہانہ بنیاد پر نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ سالانہ شرح بھی گزشتہ دو برسوں کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہے۔اس دوران توانائی کے شعبے میں سب سے زیادہ دباو دیکھا گیا،جہاں ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ سامنے آیا۔رپورٹس کے مطابق پٹرول اور توانائی کی قیمتوں میں دوہرے ہندسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا،جس نے نقل و حمل اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں پر براہ راست اثر ڈالا ہے۔اسی طرح فضائی سفر کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں،جس کی بڑی وجہ ایندھن کی عالمی سطح پر قلت اور رسد میں رکاوٹیں بتائی جا رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوئی جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی ترسیل متاثر ہوئی،خاص طور پر اس اہم آبی گزرگاہ میں رکاوٹوں کے خدشات نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔اس راستے سے دنیا کی بڑی مقدار میں توانائی کی ترسیل ہوتی ہے،اس لیے کسی بھی نوعیت کی رکاوٹ فوری طور پر عالمی قیمتوں پر اثر ڈالتی ہے۔اقتصادی ماہرین یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ گزشتہ برسوں میں امریکا میں مہنگائی میں کمی کا رجحان دیکھا گیا تھا تاہم حالیہ عالمی بحران نے اس رجحان کو دوبارہ تبدیل کر دیا ہے۔اگرچہ حالیہ عرصے میں جنگ بندی اور سفارتی پیش رفت سے قیمتوں میں کچھ استحکام آیا ہے لیکن خام تیل اب بھی پہلے کے مقابلے میں بلند سطح پر برقرار ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر عالمی توانائی سپلائی چین میں مکمل استحکام نہ آیا تو آنے والے مہینوں میں مہنگائی کا دباو مزید بڑھ سکتا ہے،جس کے اثرات صرف امریکا ہی نہیں بلکہ پوری عالمی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔