تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)خطے میں بحری راستوں کے انتظام اور سیکیورٹی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایران نے ایک ممکنہ مفاہمتی فریم ورک کے ابتدائی مسودے کی وصولی کی تصدیق کر دی ہے۔ایرانی ذرائع کے مطابق یہ دستاویز ابھی ابتدائی نوعیت کی ہے اور اس پر حتمی فیصلہ فریقین کی مزید مشاورت اور عملی تصدیق کے بعد ہی سامنے آئے گا،جس سے آبنائے ہرمز سمیت اہم بحری گزرگاہوں کی صورتحال میں ممکنہ تبدیلیوں کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایران کو ایک غیر سرکاری مفاہمتی یادداشت کے ابتدائی فریم ورک کا مسودہ موصول ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق یہ فریم ورک ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا اور اس پر مزید مشاورت کا عمل جاری رہنے کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران اس پورے عمل میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور کسی بھی عملی پیش رفت سے قبل ٹھوس اور قابلِ اعتماد تصدیق کو بنیادی شرط قرار دے رہا ہے۔دستاویز میں آئندہ ساٹھ دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کی صورت میں اسے سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت منظور کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔مجوزہ فریم ورک کے تحت تجارتی جہازوں کی آمدورفت کو جنگ سے قبل کی سطح پر بحال کرنے جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی نگرانی ایران اور عمان کے مشترکہ انتظام میں دینے کی بات کی گئی ہے۔اس کے علاوہ بعض رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ فوجی جہازوں کی آمدورفت پر پابندی اور غیر ملکی افواج کی محدود واپسی جیسے نکات بھی زیر بحث ہیں۔
دوسری جانب ایرانی قومی سلامتی کونسل کے نائب سیکرٹری علی باقری نے واضح کیا ہے کہ افزودہ یورینیم سے متعلق کسی قسم کے مذاکرات امریکا کے ساتھ نہیں ہو رہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان آبنائے ہرمز پر کوئی باضابطہ معاہدہ موجود نہیں جبکہ جہازوں کی آمدورفت کے حوالے سے بات چیت صرف عمان کے ساتھ جاری ہے۔واضح رہے کہ یہ پیش رفت خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان ایک اہم مگر ابتدائی سفارتی اشارہ ہے، جس کے مستقبل کا انحصار آنے والے دنوں میں فریقین کے عملی اقدامات اور اعتماد سازی پر ہوگا۔