6
تہران (ایگزو نیوز ڈیسک)کشیدگی میں اضافے کے بعد ایران نے افغانستان، پاکستان اور دیگر برادر ممالک سے ملحقہ اپنی تمام زمینی سرحدیں بند کر دی ہیں، جس کے نتیجے میں سرحدی تجارت معطل ہو گئی ہے اور اشیائے خورونوش و ادویات کی برآمد بھی روک دی گئی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایران نے بلوچستان سے ملحقہ تافتان بارڈر کراسنگ سمیت کیچ کے سرحدی راستوں کو بند کر دیا ہے، جس کے باعث دوطرفہ تجارتی سرگرمیاں فوری طور پر متاثر ہوئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں یہ اقدام کیا گیا ہے تاہم اس کی مدت سے متعلق باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔سرحدی بندش کے باعث بلوچستان کے علاقوں تفتان، دالبندین، تربت، کیچ اور پنجگور میں اشیائے ضروریہ کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مقامی تاجروں کے مطابق ایران سے خوراک اور ادویات کی بڑی مقدار درآمد کی جاتی تھی، جس کی اچانک بندش سے نہ صرف قیمتوں میں اضافے بلکہ ممکنہ قلت کا بھی اندیشہ ہے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اس فیصلے کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ افغانستان بھی متاثر ہوگا، کیونکہ ایران سے اشیائے خورونوش کی خریداری دونوں ممالک میں نمایاں رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر سرحدی بندش طویل مدت تک برقرار رہی تو سرحدی منڈیوں، ٹرانسپورٹ سیکٹر اور چھوٹے کاروباروں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔تاجروں اور مقامی کاروباری تنظیموں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متبادل سپلائی لائنز کے قیام، قیمتوں کے استحکام اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں کی معیشت بڑی حد تک ایران کے ساتھ تجارت پر انحصار کرتی ہے اور طویل تعطل سے روزگار کے مواقع بھی متاثر ہوں گے۔دوسری جانب سرکاری سطح پر صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ متعلقہ ادارے ممکنہ ہنگامی منصوبہ بندی پر غور کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق شہریوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، تاہم بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے سرحدوں کی مکمل بندش ایک اہم پیش رفت ہے جو خطے میں جاری کشیدگی کے وسیع تر اثرات کو ظاہر کرتی ہے، اور اس کے معاشی و سماجی نتائج آنے والے دنوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔