اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)خلیجی خطے میں کشیدگی ایک نئے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے بعض ساحلی علاقوں پر کنٹرول کا دعویٰ سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف خطے میں سفارتی تناو کو بڑھا دیا ہے بلکہ اہم سمندری گزرگاہوں اور عالمی توانائی کی ترسیل کے حوالے سے بھی خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق خلیج کے حساس خطے میں کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں ایران نے ایک نئے بحری نقشے کے ذریعے اپنی سمندری حدود میں توسیع کا دعویٰ کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے بعض ساحلی علاقوں کو بھی اپنے دائرہ اختیار میں شامل دکھایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ حدود آبنائے ہرمز سے آگے خلیجِ عمان تک پھیلتی ہیں،جہاں یو اے ای کی اہم بندرگاہیں واقع ہیں۔ایرانی موقف کے مطابق فجیرہ اور خورفکان جیسے سٹریٹجک مقامات اب اس کے زیرِ کنٹرول بحری دائرہ کار میں آتے ہیں،جو توانائی کی ترسیل اور عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔یہ بندرگاہیں خصوصاً اس لیے اہم ہیں کہ حالیہ کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات نے انہی راستوں کے ذریعے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے تیل کی ترسیل جاری رکھی۔
ایران کا کہنا ہے کہ ان علاقوں تک رسائی پر موثر کنٹرول قائم ہونے کی صورت میں یو اے ای پر بحری دباو میں نمایاں اضافہ ممکن ہے تاہم اس دعوے کی کسی آزاد یا بین الاقوامی ذریعے سے تصدیق سامنے نہیں آئی،جس کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی اور میزائل و ڈرون حملوں کے الزامات عائد کیے ہیں جبکہ دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو ناکام بنایا۔اسی دوران فجیرہ میں ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں تیل کی تنصیب میں آگ لگنے کا واقعہ بھی سامنے آیا،جس نے خطے میں تشویش کو مزید بڑھا دیا۔ادھر ایران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بیرونی مداخلت کا نتیجہ قرار دیا ہے جبکہ آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے نے بھی صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا ہے،جس کا الزام امریکا نے ایران پر عائد کیا ہے۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے،میں بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے اور کسی بھی ممکنہ تصادم کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔