سلویش(ایگزو نیوز ڈیسک)سوشل میڈیا کے دور میں معلومات کی رفتار جتنی تیز ہو چکی ہے،اتنی ہی تیزی سے غلط فہمیاں بھی جنم لے رہی ہیں،حالیہ دنوں پرتگال کے ایک چرچ سے منسوب اذان کی وائرل ویڈیو نے بھی کچھ ایسا ہی منظر پیش کیا،جسے مختلف حلقوں کی جانب سے مذہبی تبدیلی اور یورپ میں بڑھتی اسلامی علامات کے تناظر میں پیش کیا گیا تاہم جب اس ویڈیو کی حقیقت جاننے کے لیے مستند ذرائع سے تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ اصل کہانی سوشل میڈیا پر پھیلائے گئے تاثر سے بالکل مختلف ہے،یہ معاملہ نہ کسی مذہبی پیش رفت کا تھا اور نہ ہی کسی عبادت گاہ کی تبدیلی کا بلکہ ایک ثقافتی تقریب کی پرفارمنس کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر کے سنسنی پیدا کی گئی۔
ایگزو نیوز کے مطابق سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی جس میں اسلامی اذان کی آواز سنائی دیتی ہے،ویڈیو کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ پرتگال کے ایک چرچ کے اندر کی ہے،جس پر مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں تاہم مستند ذرائع سے ہونے والی فیکٹ چیکنگ میں معلوم ہوا ہے کہ ویڈیو کا پس منظر اس دعوے سے مختلف ہے۔دراصل یہ منظر پرتگال کے شہر سلویش میں منعقد ہونے والے ایک قرونِ وسطیٰ کے ثقافتی میلے کا ہے،جہاں ایک شامی فنکار نے بطور ثقافتی پرفارمنس اذان پیش کی۔یہ ایک خصوصی ثقافتی تقریب تھی،اس کا کسی مذہبی تبدیلی،چرچ کے استعمال یا کسی پادری کے اسلام قبول کرنے سے کوئی تعلق نہیں، اس حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعووں کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔پرتگال میں مذہبی آزادی موجود ہے،مساجد کے اندر اذان دینے کی اجازت ہے البتہ عوامی مقامات پر لاوڈ سپیکر کے استعمال کو مقامی شور سے متعلق قوانین کے تحت کنٹرول کیا جاتا ہے۔
پرتگال کے چرچ میں اذان کی وائرل ویڈیو،اصل حقیقت سامنے آ گئی
3