اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)انٹرنیشنل کرمنل پولیس آرگنائزیشن (انٹرپول) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماچوہدری مونس الٰہی کے گرفتاری وارنٹ سے متعلق درخواست کو باضابطہ طور پر نمٹا دیا ہے، جسے حکومتی سطح پر اپوزیشن لیڈر کی حوالگی کے لیے اہم کامیابی سمجھا جا رہا تھا۔ انٹرپول کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے جاری کردہ خط میں صراحت کے ساتھ کہا گیا کہ یہ معاملہ انٹرپول کے دائرہ کار کا نہیں ہے اور اسی بنیاد پر اس بین الاقوامی فورم نے مونس الٰہی کے خلاف مطلوبہ وارنٹ کی عالمی سطح پر تعمیل کے لیے مدد فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق حکومت پاکستان نے داخلی سطح پر مختلف مقدمات کے سلسلے میں چوہدری مونس الٰہی کی گرفتاری اور حوالگی کے لیے انٹرپول سے تعاون طلب کیا تھا۔ مونس الٰہی طویل عرصے سے بیرونِ ملک مقیم ہیں اور ان کی غیر حاضری مبینہ طور پر تین سال قبل سیاسی دباو کے تیزی سے بڑھنے کے بعد شروع ہوئی۔ حکام نے ان پر متعدد الزامات عائد کیے تھے جن میں بعض سنگین نوعیت کے کیسز بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔انٹرپول کے فریقین کے بیانات سننے اور مکمل جائزہ کے بعد آنے والے حتمی فیصلے نے واضح کر دیا کہ بین الاقوامی سطح پر مونس الٰہی کے خلاف کوئی ایسا شواہد یا نوعیت موجود نہیں جو انٹرپول کو اس معاملے میں فعال مداخلت کی اجازت دے۔ اندرونی معلومات کے مطابق انٹرپول نے سیاسی نوعیت کے ممکنہ تنازع کو بھی نوٹ کیا اور اسی بنیاد پر کہا کہ یہ معاملہ اس کے دائرہ کار میں لاگت نہیں رکھتا،ایک پالیسی جو تنظیم کے روایتی موقف کے عین مطابق ہے کہ وہ سیاسی، فوجی یا مذہبی نوعیت کے تنازعات میں مداخلت نہیں کرتی۔انٹرپول کے اس فیصلے کو پاکستانی حکومت کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے جو عالمی سطح پر اپوزیشن رہنما کی گرفتاری کے لیے بین الاقوامی مدد پر انحصار کر رہی تھی۔اس حقیقت نے نا صرف حکومت کی حکمت عملی کو چیلنج کیا ہے بلکہ سیاسی سطح پر بھی ماہرین اور مبصرین نے اسے پی ٹی آئی کے حق میں ایک اہم جیت قرار دیا ہے۔سیاسی پس منظر کو مد نظر رکھیں توچوہدری مونس الٰہی کا نام اسی سیاسی گھرانے سے منسلک ہے جو پنجاب کی سیاسی وزارت اعلیٰ تک پہنچ چکا ہے،وہ سابق نائب وزیر اعظم اور پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے صاحبزادے ہیں اور ان کی غیر موجودگی نے مقامی سیاسی تنازعات میں نئی جہتیں پیدا کی ہیں۔پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن حلقوں نے ماضی میں اراکین اپوزیشن کے خلاف قانونی و انتظامی اقدامات کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے،انٹرپول کے فیصلے کے بعد یہ بیانیہ دوبارہ زور پکڑنے کا امکان رکھتا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرپول کا یہ فیصلہ فریقین کے لیے متعدد آئندہ راستے کھولتا یا محدود کر دیتا ہے۔ ایک پہلو یہ ہے کہ حکومت اب انٹرپول کی مدد کے بغیر دو رخی راستے اختیار کر سکتی ہے یا تو وہ باضابطہ طور پر ثبوت جمع کر کے دوبارہ درخواست دائر کرے(اگر کوئی نئی معلومات دستیاب ہوں)،یا پھر دوطرفہ قانونی اور سفارتی چینلز کے ذریعے مونس الٰہی کی حوالگی کے لیے کوششیں تیز کرے جن میں ممکنہ طور پر ایکسپریشن آف سرکاری مانگ،بین الاقوامی وکلاء کی شمولیت اور میزبان ملک کے قوانین کے مطابق درخواستیں شامل ہوں گی لیکن اس راہ میں بھی قانونی پیچیدگیاں ہوں گی،خاص طور پر جب معاملہ سیاسی نوعیت کا تسلیم کیا جائے۔پی ٹی آئی رہنماوں کی جانب سے ابتدائی ردعمل میں متوقع طور پر انٹرپول کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا جائے گا جبکہ حکومتی حلقے ممکنہ طور پر اس کو داخلی عدالتی عمل اور دستیاب دیگر قانونی آپشنز کے ذریعے حل کرنے کے طریقہ کار کے طور پر قبول کریں گے۔فی الوقت حکومت اور پی ٹی آئی دونوں طرف سے کوئی باقاعدہ باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا مگر ذرائع بتاتے ہیں کہ دونوں اطراف اس پیش رفت کے سیاسی مضمرات کا محتاط انداز میں تجزیہ کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ انٹر پول کی پالیسی واضح ہے،وہ سیاسی، فوجی،مذہبی یا ذات پات کی نوعیت کے مقدمات میں مداخلت نہیں کرتی۔اسی وجہ سے انٹرپول کا فیصلہ بسا اوقات ایسے معاملات میں حتمی رکاوٹ ثابت ہوتا ہے جہاں سادہ فوجداری تقاضے اور سیاسی پس منظر پیچیدہ طور پر الجھے ہوں۔نتیجتاً،مونس الٰہی کے خلاف مقامی کیسز کی پیروی اور ممکنہ عدالتی کارروائی کا دارومدار ملکی اداروں،شواہد کی تقویت اور بین الاقوامی قانون کے دائرہ کار کے مطابق آگے بڑھے گا۔