کراچی(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی کے 100 ارب ڈالر سے متعلق بیان پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد وزارت داخلہ نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر کے موقف کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ترجمان کے مطابق اصل بیان کو غلط انداز میں نشر کرنے سے عوام میں غلط فہمی پیدا ہوئی جبکہ وزیر داخلہ کا مقصد بیرون ملک منتقل ہونے والی رقوم کے حوالے سے عمومی اندازے کی نشاندہی کرنا تھا،نہ کہ کسی حتمی یا مصدقہ اعداد و شمار کا دعویٰ کرنا۔
ایگزو نیوز کے مطابق وزارت داخلہ کے ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے یہ بیان نہیں دیا کہ پاکستان سے 100 ارب ڈالر باہر گئے ہیں بلکہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ترجمان کے مطابق اصل بات یہ تھی کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان سے بیرون ملک منتقل ہونے والی رقوم کے حوالے سے اندازاً 100 ارب روپے کے اعداد و شمار میڈیا میں زیر بحث رہے ہیں تاہم بعض ٹی وی چینلز نے اس معاملے کو غلط انداز میں رپورٹ کیا جس سے غلط فہمی پیدا ہوئی
۔واضح رہے کہ اس سے قبل محسن نقوی نے کراچی چیمبر آف کامرس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان سے خطیر رقم بیرون ملک منتقل ہوئی ہے اور اگر کاروباری طبقہ چاہے تو آئندہ بجٹ سے قبل بھی نمایاں رقوم واپس لائی جا سکتی ہیں۔انہوں نے اس موقع پر روشن ڈیجیٹل اکاونٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں اور یہاں منافع کے بہتر امکانات دنیا کے کئی ممالک سے زیادہ ہیں۔انہوں نے کہا تھا کہ اگر تاجر برادری اعتماد کے ساتھ فیصلہ کرے تو بڑی رقوم کی واپسی ممکن ہے اور حکومت اس عمل میں مکمل تعاون کرے گی۔محسن نقوی نے یہ بھی کہا کہ معیشت کی بہتری کے لیے تمام فریقین کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا اور کاروباری طبقے کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے معاملات کو زیادہ کاروبار دوست بنایا جا رہا ہے اور ہزاروں زیر التوا انکوائریز کو نمٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ کاروباری برادری کو ریلیف دیا جا سکے۔وزارت داخلہ کے مطابق حکومت منی لانڈرنگ اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے خلاف سخت پالیسی پر عمل پیرا ہے جبکہ عوام کو بھی لین دین کے لیے بینکنگ نظام کے استعمال کی ترغیب دی جا رہی ہے۔