اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر پوری امتِ مسلمہ رنجیدہ ہے اور پاکستان کے عوام بھی شدید دکھ اور غم کی کیفیت میں ہیں،یہ صرف ایک ملک کا معاملہ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے جذبات سے جڑا مسئلہ ہے،اگر ضرورت پڑی تو میں خود بھی احتجاج میں شریک ہونے کے لیے تیار ہوں لیکن احتجاج ہر صورت آئین اور قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے۔
ایگزو نیوز کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں اہل تشیع کے علمائے کرام سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ وہ ایران میں حالیہ حملوں کے خلاف احتجاج میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں اور حکومت پوری طرح عوام کے جذبات کے ساتھ کھڑی ہے،ایران پر ہونے والے حملوں پر ہر پاکستانی رنجیدہ ہے اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر ہر مسلمان کا غم و غصہ بجا ہے۔محسن نقوی کا کہنا تھا کہ میں اور پوری حکومت آپ کے ساتھ ہیں،اگر ضرورت پڑی تو احتجاج میں بھی شامل ہوں گے،ہم سب ایک ہیں اور دشمن ہمیں تقسیم کرنے کی سازش کر رہا ہے،جسے ناکام بنانا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ احتجاج قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے ریکارڈ کرایا جائے اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ان کا کہنا تھا کہ علمائے کرام نے ہمیشہ مشکل وقت میں قوم کی رہنمائی کی ہے اور موجودہ حالات میں بھی ان کا کردار انتہائی اہم ہے۔وزیر داخلہ نے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور اپنے جذبات کا اظہار پرامن انداز میں کریں۔انہوں نے علمائے کرام سے بھی درخواست کی کہ وہ اپنے پیروکاروں کو نظم و ضبط اور اتحاد کا درس دیں تاکہ کوئی شرپسند عناصر صورتحال سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ملاقات میں ملکی صورتحال،فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں قومی اتحاد کو برقرار رکھنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ حکومت داخلی امن و امان کو یقینی بنانے اور قومی یکجہتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔