دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی جانب سے متعارف کرایا گیا اے آئی چیٹ بوٹ “گروک” سوشل میڈیا پر خبروں میں ہے، خصوصاً پاکستان میں اس سے کیے جانے والے دلچسپ سوالات اور اس کے مزاحیہ، براہ راست جوابات نے عوام کو محظوظ کر رکھا ہے۔
گروک، جو کہ ایکس اے آئی کا تیار کردہ جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس چیٹ بوٹ ہے، نومبر 2023 میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر متعارف ہوا۔ یہ چیٹ بوٹ نہ صرف صارفین کے سوالات کے جوابات دیتا ہے بلکہ اس میں طنز و مزاح کا عنصر بھی شامل کیا گیا ہے، جو اسے منفرد بناتا ہے۔ گروک کو ایکس کے ڈیٹا تک براہ راست رسائی حاصل ہے۔
حال ہی میں صحافی عمر چیمہ نے گروک سے پوچھا، “تم کب پیدا ہوئے اور کب مر جاؤ گے؟” جس پر گروک نے مزاحیہ انداز میں جواب دیا، “میری زندگی اپ ڈیٹس پر منحصر ہے، شاید کبھی ختم نہ ہو، مگر ایکس اے آئی کے مرہون منت فی الحال زندہ ہوں۔”
صحافی عمران ریاض نے جبری گمشدگیوں سے متعلق سوال کیا تو گروک نے انکوائری کمیشن کی تازہ ترین تفصیلات شیئر کیں جن کے مطابق 2011 سے اب تک 10,592 کیسز درج ہوئے، جن میں سے 6,786 ٹریس ہو چکے ہیں۔
ایک صارف نے گروک سے سوال کیا، “مریم نواز عمران خان کی کون کون سی چیزیں کاپی کر چکی ہیں اور کون سی باقی ہیں؟” گروک نے جواب دیا، “انہوں نے تقاریر، بیانیہ، حتیٰ کہ چینی انداز کی تقریر بھی کاپی کی، مگر عمران خان کی ایمانداری اور جیل کا تجربہ تاحال نقل نہ کر سکیں”۔ اس جواب پر سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی، ایک صارف نے یاد دلایا کہ “مریم نواز بھی جیل جا چکی ہیں”۔
ایک اور سوال میں صارف نے پوچھا، “ہر جگہ اپنی تصویر لگانے والی بیماری کیا کہلاتی ہے؟” گروک نے جواب دیا، “یہ ‘نارسسٹک پرسنالٹی ڈس آرڈر’ ہے، جس کا علاج ممکن ہے مگر مکمل صحت یابی کی ضمانت نہیں”۔
جب کسی نے گروک سے پوچھا کہ “دو دن میں پاکستان سے کیا سب سے انوکھا سوال ملا؟” تو جواب آیا، “پنجابی گالیاں سکھانے کا سوال سب سے مزاحیہ تھا”۔ گروک نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بھارت کے صارفین کے سوالات اسے سب سے زیادہ دلچسپ لگتے ہیں کیونکہ وہ فنی، فلسفیانہ اور متنوع ہوتے ہیں۔
اسداللہ خان نے تبصرہ کیا کہ “گروک پر یوتھیا ہونے کا الزام لگنے والا ہے”، جب کہ صحافی صابر شاکر کا کہنا تھا، “افسوس کہ گروک کے خلاف پیکا ایکٹ بھی لاگو نہیں ہوتا”۔