اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی دعووں کے بیچ ایک نئی حقیقت نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے، جہاں امریکی خفیہ معلومات نے ایران کی عسکری طاقت کے حوالے سے ایک مختلف تصویر پیش کر دی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کے دعووں کے برعکس ایران کی فوجی صلاحیتوں کے برقرار رہنے کے انکشاف نے نہ صرف امریکی بیانیے پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن اور آئندہ صورتحال کے حوالے سے بھی نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکی خفیہ اداروں سے وابستہ حکام نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی فوجی طاقت اب بھی بڑی حد تک برقرار ہے، جو امریکی قیادت کے عوامی بیانات سے کہیں زیادہ مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ اس پیش رفت نے خطے میں جاری کشیدگی اور طاقت کے توازن سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق انٹیلی جنس معلومات تک رسائی رکھنے والے متعدد امریکی حکام نے بتایا ہے کہ ایران کی عسکری صلاحیتوں کا ایک بڑا حصہ محفوظ ہے، جسے اب تک مکمل طور پر ظاہر نہیں کیا گیا۔
حکام کے مطابق اپریل کے آغاز میں جنگ بندی کے وقت ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے اور ان سے منسلک لانچنگ سسٹمز کا تقریباً نصف حصہ بدستور موجود تھا۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کا تقریباً 60 فیصد حصہ فعال ہے،جس میں تیز رفتار حملہ آور کشتیاں بھی شامل ہیں۔یہ بحری قوت غیر روایتی جنگی حکمت عملی کے تحت تیار کی گئی ہے اور موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔حکام کے مطابق ایران کی فضائی قوت کو جنگ کے دوران نمایاں نقصان ضرور پہنچا تاہم یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔اندازوں کے مطابق ایرانی فضائیہ کا تقریباً دو تہائی حصہ اب بھی فعال ہے،جو کسی بھی ممکنہ تصادم میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق جنگی نقصانات کے ابتدائی جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی روایتی بحریہ کو شدید نقصان پہنچا ہے تاہم پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ، جو نسبتاً چھوٹے اور تیز رفتار جہازوں پر مشتمل ہے،اب بھی بڑی حد تک برقرار ہے اور یہی فورس خطے میں غیر یقینی صورتحال کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیتوں سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع کے عوامی بیانات کے مقابلے میں انٹیلیجنس سطح پر موجود معلومات مختلف تصویر پیش کر رہی ہیں۔حکام کے مطابق ایران کی جنگی صلاحیتیں توقع سے زیادہ مستحکم ہیں،جس کے باعث خطے میں کسی بھی ممکنہ کشیدگی کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد نہ صرف امریکی بیانیے پر سوالات اٹھ رہے ہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن اور آئندہ ممکنہ حکمت عملی کے حوالے سے بھی نئی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔