راولپنڈی(ایگزو نیوز ڈیسک)بانی پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) عمران خان کی بہن علیمہ خان نے توشہ خانہ ٹو کیس کے فیصلے کے بعد شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ ڈھائی سال سے ان کے بھائی کے ساتھ مسلسل ناانصافی ہو رہی ہے اور عدالتی فیصلے دانستہ ایسے حالات میں سنائے جاتے ہیں کہ اہل خانہ اور وکلا کی موجودگی ممکن نہ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آج لاہور میں موجود تھیں، شدید دھند تھی اور جان بوجھ کر اسی ماحول میں فیصلہ سنایا گیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے بتایا کہ جیل سے ایک کلومیٹر پہلے دونوں اطراف ناکے لگا دیے گئے تھے اور بھاری پولیس نفری تعینات تھی۔ ان کے مطابق اہلِ خانہ کو جیل کے دروازے پر ہی روک لیا گیا اور بعد میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ یہاں کوئی موجود ہی نہیں تھا، جو محض ایک تکنیکی جواز ہے۔علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر عدالت کے اندر گئے تھے اور انہیں یقین تھا کہ ری بٹل کا موقع ملے گا، مگر صورتحال اس کے برعکس نکلی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس اہلکاروں نے سلمان صفدر کے ساتھ بدتمیزی اور ہاتھا پائی کی، انہیں گھسیٹا گیا، جس پر عمران خان نے سخت دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی بہنوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر شدید رنج ہے۔ان کے مطابق ملاقات کے دوران سلمان صفدر نے یاسمین راشد، ماہرنگ بلوچ اور دیگر خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک کا ذکر کیا، جس کے بعد عمران خان نے اپنی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں شدید ذہنی اذیت دی جا رہی ہے، جیل میں عام مجرموں کو کتابیں اور دیگر سہولیات دی جاتی ہیں مگر عمران خان کو بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا ہے، ان کی 11 کتابیں جیل تک نہیں پہنچنے دی جا رہیں۔علیمہ خان نے مزید کہا کہ ایک تصویر کے حوالے سے کہا گیا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی ہے، بعد میں اسے اے آئی سے تیار کردہ قرار دیا گیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے عمران خان کو آخری بار اسی حالت میں دیکھا تھا۔ ان کے مطابق عمران خان نے انصاف کے نظام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں پی سی او ججز کہلاتے تھے اور آج بھی کچھ ججز اس نظام کو ختم کر رہے ہیں، جبکہ ضمیر کے مطابق فیصلے کرنے والے ججز اصل ہیروز ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے واضح طور پر ایک فرد کا نام لیتے ہوئے کہا کہ وہی ان کی اور پاکستان کی فوج ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ انہوں نے کبھی اداروں کے خلاف بات نہیں کی، صرف افراد پر تنقید کی ہے۔علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے سلمان صفدر کو ہدایت دی کہ انٹرنیشنل لائرز فورم اور دیگر وکلا کو مزید متحرک ہونا ہوگا۔ انہوں نے سہیل آفریدی کو اسٹریٹ موومنٹ کے لیے تیاری کا پیغام دیا اور کہا کہ وہ شہادت کے لیے بھی تیار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تمام وکلا اس معاملے پر سپریم کورٹ جانے کی تیاری کر رہے ہیں اور منگل کو اہلِ خانہ اڈیالہ جیل پہنچیں گے۔علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کا موقف بالکل واضح ہے کہ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف صرف رول آف لا کے لیے بنائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک سے تیس لاکھ افراد کا بیرونِ ملک چلے جانا اسی ناانصافی کا نتیجہ ہے۔ علیمہ خان نے واضح کیا کہ یہ تمام باتیں ان کے ذاتی خیالات نہیں بلکہ عمران خان کا براہِ راست پیغام ہیں جو وہ عوام تک پہنچا رہی ہیں۔
یہ نا انصافی کی انتہا ہے،عمران خان کو ذہنی ٹارچر دیا جا رہا،فیصلہ دھند میں سنایا گیا،علیمہ خان پھٹ پڑیں،الزامات کی پٹاری کھول دی
224