اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)ادارہ شماریات پاکستان نے ہفتہ وار مہنگائی کی تازہ رپورٹ جاری کردی ہے،جس کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح میں ایک ہفتے کے دوران 0.15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح بڑھ کر 9.11 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق 51 بنیادی اشیائے ضروریہ میں سے 20 کی قیمتوں میں اضافہ،9 اشیا کی قیمتوں میں کمی جبکہ 22 اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق ہفتہ وار بنیاد پر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاو دیکھنے میں آیا۔پیاز کی قیمت ایک ہفتے کے دوران 24.68 فیصد بڑھ گئی، جو رپورٹ میں درج اشیا میں سب سے نمایاں اضافہ ہے۔اسی عرصے میں چنے کی دال 3.35 فیصد اور مرغی 2.45 فیصد مہنگی ہوئی جبکہ ایل پی جی کی قیمت میں بھی 0.67 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق چائے،سرسوں کا تیل،دہی اور مسور کی دال بھی ان اشیا میں شامل رہیں جن کی قیمتوں میں ہفتہ وار بنیاد پر اضافہ ہوا۔ان اشیا کی قیمتوں میں اضافے نے روزمرہ استعمال کی بنیادی ضروریات پر صارفین کے اخراجات مزید بڑھا دیے ہیں۔دوسری جانب بعض اہم اشیا کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 2.35 فیصد کمی ہوئی،جسے رپورٹ میں نمایاں کمی قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح ٹماٹر کی قیمت 1.26 فیصد،آلو 0.73 فیصد اور ڈیزل 0.29 فیصد سستا ہوا۔
ہفتہ وار بنیاد پر کیلے،مونگ کی دال،انڈے اور چینی کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی تاہم مجموعی طور پر 20 اشیا کے مہنگا ہونے کے باعث ہفتہ وار مہنگائی میں اضافہ برقرار رہا۔سالانہ بنیاد پر دیکھا جائے تو بعض اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ سامنے آیا ہے۔ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ٹماٹر کی قیمت میں 143.77 فیصد اضافہ ہوا،جس کے بعد پیاز 125.75 فیصد اور گندم کا آٹا 77.41 فیصد مہنگا ہوا۔رپورٹ کے مطابق ایل پی جی کی قیمت میں سالانہ بنیاد پر 55.41 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ڈیزل 34.05 فیصد اور پیٹرول 23.02 فیصد مہنگا ہوا۔اس کے علاوہ کیلے،مرچ پاوڈر،مٹن اور بیف کی قیمتوں میں بھی سالانہ بنیادوں پر دو ہندسوں میں اضافہ دیکھا گیا۔سالانہ مہنگائی کے دباو کے برعکس بعض اشیا کی قیمتوں میں کمی بھی سامنے آئی۔آلو کی قیمت گزشتہ ایک سال کے دوران 30 فیصد کم ہوئی جبکہ چینی 17.93 فیصد اور مرغی 17.45 فیصد سستی ہوئی۔اسی طرح چنے کی دال،انڈوں اور مونگ کی دال کی قیمتوں میں بھی سالانہ بنیاد پر کمی ریکارڈ کی گئی،جس سے ان اشیا کے صارفین کو نسبتاً ریلیف ملا۔
ہفتہ وار رپورٹ کے مجموعی اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی کا دباو مختلف اشیائے ضروریہ پر یکساں نہیں رہا۔بعض اشیا میں نمایاں اضافہ جبکہ کچھ میں کمی نے مجموعی قیمتوں کے رجحان کو متاثر کیا تاہم سالانہ شرح 9.11 فیصد تک پہنچنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ گھریلو بجٹ پر قیمتوں کا دباو اب بھی برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مستقل اضافے کا براہِ راست اثر متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر پڑتا ہے،کیونکہ ان خاندانوں کے بجٹ کا بڑا حصہ خوراک،ایندھن اور روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیا پر خرچ ہوتا ہے۔ٹماٹر،پیاز اور آٹے جیسی بنیادی اشیا میں سالانہ بنیاد پر نمایاں اضافہ اس دباو کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ادارہ شماریات کی تازہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مہنگائی کی رفتار،ایندھن کی قیمتیں اور بنیادی غذائی اشیا کے نرخ عوامی معاشی مشکلات کے اہم عوامل بنے ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق آئندہ ہفتوں میں قیمتوں کا رجحان فصلوں کی دستیابی،رسد و طلب،توانائی کی قیمتوں اور مارکیٹ کے دیگر عوامل سے متاثر ہوسکتا ہے۔