Home » فلسطینیوں کو فائدہ نہ ہوا تو امن بورڈ چھوڑ دیں گے،انڈونیشیا کا دوٹوک اعلان،ایران اسرائیل تنازع میں ثالثی کی پیشکش

فلسطینیوں کو فائدہ نہ ہوا تو امن بورڈ چھوڑ دیں گے،انڈونیشیا کا دوٹوک اعلان،ایران اسرائیل تنازع میں ثالثی کی پیشکش

by ahmedportugal
2 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران،اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے تناظر میں انڈونیشیا نے ایک اہم سفارتی اقدام کرتے ہوئے ثالثی کی پیشکش کر دی ہے جبکہ فلسطینیوں کے حقوق کے معاملے پر عالمی فورمز کو بھی سخت پیغام دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور ممکنہ جنگ کے پھیلاو کو روکنے کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔ انڈونیشی حکومت کا موقف ہے کہ مسلم اکثریتی ممالک خطے میں مزید جنگ یا عدم استحکام کے خطرات کو کم کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر متفق ہیں۔رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا نے ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے تناو کے تناظر میں ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی حمایت کا بھی اعلان کیا ہے۔ انڈونیشی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔دوسری جانب ایران سے متعلق حکومتی پالیسیوں پر انڈونیشیا کے اندر بھی سیاسی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے تنقید سامنے آ رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر انڈونیشی حکومت کی جانب سے تعزیتی پیغام میں تاخیر ہوئی، جس پر ملک کی بعض مذہبی و سماجی تنظیموں نے حکومت سے پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی تنقید اور داخلی دباو کے بعد انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے فلسطینی مسئلے پر دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قائم کردہ امن بورڈ سے فلسطینیوں کو حقیقی فائدہ حاصل نہ ہوا تو انڈونیشیا اس فورم سے علیحدگی اختیار کرنے پر بھی غور کر سکتا ہے۔سرکاری میڈیا کے مطابق صدر پرابوو سوبیانتو نے یہ بات ملک کے مختلف مذہبی رہنماوں اور 160 سے زائد علما سے ملاقات کے دوران کہی۔ملاقات کے دوران فلسطینی مسئلے،مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔انڈونیشین علما کونسل کے نائب سربراہ کے مطابق صدر نے واضح کیا کہ انڈونیشیا امن بورڈ میں اس مقصد کے تحت شامل ہوا تھا کہ فلسطینیوں کے مفادات کا موثر دفاع کیا جا سکے تاہم اگر یہ فورم آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے ہدف سے ہٹ گیا تو انڈونیشیا کے لیے اس میں رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔

صدر پرابوو سوبیانتو نے مزید کہا کہ کسی بھی عالمی امن فورم کی کامیابی اس بات سے مشروط ہوتی ہے کہ وہ متاثرہ عوام کو عملی فائدہ پہنچا سکے۔ان کے مطابق محض سفارتی بیانات یا علامتی اقدامات کافی نہیں بلکہ فلسطینیوں کو حقیقی سیاسی اور انسانی ریلیف فراہم کرنا ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر فلسطینی عوام کو اس فورم سے کوئی ٹھوس فائدہ حاصل نہ ہوا تو انڈونیشیا کے لیے اس کا حصہ رہنا ممکن نہیں ہو گا۔انہوں نے ایک بار پھر فلسطینی کاز کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ انڈونیشیا ہمیشہ فلسطینیوں کے حق خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کے مطالبے کے ساتھ کھڑا رہے گا۔انڈونیشی حکومت کا موقف ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب فلسطینی عوام کو انصاف فراہم کیا جائے اور ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔حکومت کے مطابق خطے میں دیرپا استحکام کے لیے عالمی برادری کو فلسطینی مسئلے کے منصفانہ حل پر توجہ دینا ہوگی۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز