Home » “یہ ابھی شروعات ہے،کاکروچز جیت گئے،جمہوریت جیت گئی”وزیر تعلیم استعفے کے بعد بھی سڑکوں پر غصہ،بھارت میں احتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کر گئی

“یہ ابھی شروعات ہے،کاکروچز جیت گئے،جمہوریت جیت گئی”وزیر تعلیم استعفے کے بعد بھی سڑکوں پر غصہ،بھارت میں احتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کر گئی

by ahmedportugal
11 views
A+A-
Reset

نئی دہلی(ایگزو نیوز ڈیسک)بھارت میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے باوجود احتجاجی تحریک میں کمی نہ آ سکی، بلکہ مظاہرین نے اسے اپنی جدوجہد کا محض ابتدائی مرحلہ قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں احتجاج مزید تیز کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ احتجاجی قیادت کے جارحانہ بیانات اور سڑکوں پر جاری مظاہروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ طلبا اور نوجوان حکومتی اقدامات سے مطمئن نہیں اور اپنے باقی مطالبات کی منظوری تک دباو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق بھارت کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی نے اس پیش رفت کو اپنی جدوجہد کی کامیابی قرار دیتے ہوئے حکومت پر دباو برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔پارٹی کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ”کاکروچز جیت گئے،جمہوریت جیت گئی“،جسے مظاہرین کی کامیابی اور حکومتی پسپائی کے طور پر پیش کیا گیا۔دوسری جانب پارٹی کے بانی صدر ابھیجیت دیپکے نے نئی دہلی میں احتجاج میں شریک طلبا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں عوام کی آواز ہی اصل طاقت ہے اور اگر شہری خوف کا شکار ہو جائیں تو جمہوری نظام اپنی روح کھو دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوامی دباو کے تحت جوابدہ بنانا ضروری ہے،کیونکہ اقتدار عوام کی حمایت سے ہی قائم رہتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ وزیر تعلیم کا استعفیٰ احتجاج کا اختتام نہیں بلکہ ایک مرحلہ ہے اور تحریک کے دیگر مطالبات بھی پورے ہونے چاہئیں۔ان مطالبات میں امتحانی سکینڈل سے متاثر ہو کر خودکشی کرنے والے طلبا کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ بھارتی روپے معاوضہ،مظاہرین کے خلاف درج مقدمات کی واپسی اور احتجاج کے دوران مبینہ پولیس تشدد میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

یاد رہے کہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر تقریباً دو ماہ سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج جاری تھا،جس میں طلبا، نوجوانوں اور مختلف سماجی و سیاسی حلقوں نے بھرپور شرکت کی۔اس دوران معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روزہ بھوک ہڑتال بھی کی،جس نے اس تحریک کو مزید تقویت دی۔20 جولائی کو دی گئی احتجاجی کال کے بعد ہزاروں نوجوان دارالحکومت میں جمع ہوئے تاہم پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔رپورٹس کے مطابق لاٹھی چارج،واٹر کینن اور پیلٹ گنز کا استعمال کیا گیا جبکہ متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔ان جھڑپوں کے نتیجے میں 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔وزیراعظم نریندر مودی نے طویل خاموشی کے بعد ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے مظاہرین کو احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کی بات کی تاہم طلبا تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں نے اس پیشکش کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔سیاسی مبصرین کے مطابق وزیر تعلیم کا استعفیٰ بظاہر حکومت کے لیے ایک وقتی ریلیف ہو سکتا ہے تاہم جاری احتجاج اور بڑھتے ہوئے مطالبات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بحران ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور حکومت کو مزید سیاسی و انتظامی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز