وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ بھارت کھلم کھلا محاذ آرائی میں ناکامی کے بعد اب خفیہ حملوں اور پراکسیز کے ذریعے نہتے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں پر حملے بھارتی بزدلی کا ثبوت ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی بھارت کے مبینہ آپریشن “سندور” کا تسلسل ہے، جس کا مقصد پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے آپریشن سندور سے سختی سے نمٹا گیا، ویسے ہی ان بھارتی پشت پناہی والے گروہوں کا بھی قلع قمع کیا جائے گا۔
طلال چوہدری نے کہا کہ کور کمانڈرز کانفرنس اور وزیرِاعظم کی قیادت میں یہ طے پا چکا ہے کہ پاکستان سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بلوچستان کی سیاسی قیادت پر زور دیا کہ وہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر متحدہ بیانیہ اپنائیں تاکہ یہ جنگ جلد جیتی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں کوئی نیا آپریشن شروع نہیں کیا جا رہا، بلکہ صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر انٹیلیجنس کی بنیاد پر چھوٹے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک بڑی تعداد میں دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جا چکا ہے۔
طلال چوہدری نے مزید انکشاف کیا کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروہ بھارت کی پراکسیز کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں اور ان کے ٹھکانے ہمسایہ ملک میں قائم ہیں، جو پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔