نئی دہلی(ایگزو نیوز ڈیسک)بھارت میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے اسکینڈل پر لگ بھگ ڈیڑھ ماہ سے جاری ملک گیر طلبا احتجاج نے بالآخر اہم کامیابی حاصل کر لی،جہاں شدید عوامی دباو کے بعد وفاقی وزیر تعلیم نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق ہندوستانی طلبا کے مسلسل دھرنوں اور شدید احتجاج کے نتیجہ میں بھارتی وزیر تعلیم نے گھٹنے ٹیکتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے جبکہ مودی حکومت ملک گیر دباو کے نتیجے میں دفاعی پوزیشن پر آ گئی ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب نئی دہلی سمیت مختلف شہروں میں طلبا، نوجوانوں اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے جاری تھے۔مظاہرین کا موقف تھا کہ حالیہ امتحانی نظام میں بدعنوانی اور انتظامی ناکامیوں نے لاکھوں طلبا کے مستقبل کو داو پر لگا دیا ہے۔احتجاج کی قیادت کرنے والی طلبا تنظیموں اور سیاسی حلقوں نے وزیر تعلیم کے استعفے کو اپنی تحریک کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ ان کے دیگر مطالبات تاحال پورے نہیں ہوئے۔ان مطالبات میں متاثرہ طلبا کے لیے مالی معاوضہ اور احتجاج کرنے والوں کے خلاف حکومتی کارروائیوں کا خاتمہ شامل ہے۔
معروف سماجی کارکن سونم وانگچک جو اس معاملے پر طویل بھوک ہڑتال بھی کر چکے ہیں،نے استعفے کو جمہوری اقدار کی فتح قرار دیتے ہوئے عوام اور نوجوانوں کے کردار کو سراہا۔ان کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ منظم اور پرامن احتجاج کے ذریعے ریاستی فیصلوں پر اثر انداز ہوا جا سکتا ہے۔ادھر اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے بھی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے نظامی ناکامی قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ ذمہ داران کے خلاف فوری اور شفاف کارروائی کی جائے جبکہ طلبا پر طاقت کے استعمال میں ملوث اہلکاروں کا احتساب بھی کیا جائے۔یہ احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے سوالیہ پرچے لیک ہونے کا انکشاف ہوا،جس کے باعث بیس لاکھ سے زائد امیدواروں کو دوبارہ امتحان دینا پڑا۔اس واقعے نے نہ صرف تعلیمی نظام کی خامیوں کو بے نقاب کیا بلکہ حکومتی شفافیت پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیے۔ابتدائی طور پر حکومت نے احتجاج کو نظر انداز کیا تاہم مظاہروں کے پھیلاو اور دارالحکومت میں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے اعلان کے بعد سیکیورٹی اقدامات سخت کر دیے گئے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج،آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال بھی کیا گیا جبکہ بعض علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل رہی۔بعد ازاں حکومت کی جانب سے تیز رفتار عدالتوں کے قیام کا اعلان کیا گیا تاہم طلبا اور اپوزیشن نے اسے ناکافی قرار دیتے ہوئے وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا،جو بالآخر پورا ہو گیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف طلبا تحریک کی بڑی کامیابی ہے بلکہ آئندہ دنوں میں بھارت کے تعلیمی نظام اور حکومتی پالیسیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔