Home » امریکی دھمکی پر بھارت کی مودی سرکار نے گھٹنے ٹیک دیئے،روسی تیل کا دس سالہ معاہدہ ردی ہو گیا

امریکی دھمکی پر بھارت کی مودی سرکار نے گھٹنے ٹیک دیئے،روسی تیل کا دس سالہ معاہدہ ردی ہو گیا

by ahmedportugal
4 views
A+A-
Reset

نیو یارک(ایگزو نیوز ڈیسک)بھارت کی معاشی اور جیو سٹریٹیجک پالیسی ایک بار پھر عالمی دباو کے سامنے ڈگمگاتی نظر آئی ہے، واشنگٹن پوسٹ کی تازہ رپورٹ کے مطابق بھارتی ریلائنس انڈسٹریز نے روسی تیل سے متعلق اپنی طویل المدتی حکمت عملی اچانک تبدیل کرتے ہوئے دس سالہ خریداری معاہدہ موثر طور پر ختم کر دیا ہے،ایک ایسا معاہدہ جسے نئی دہلی ہمیشہ اپنی ”سٹریٹیجک خود مختاری“ کی علامت قرار دیتا رہا تھا۔
ایگزو نیوز کے مطابق بھارتی کاروباری ٹائیکون اور نریندر مودی کے قریبی اتحادی مکیش امبانی نے امریکی انتظامیہ کے سخت دباو کے بعد روسی تیل کے سودوں سے ہاتھ اٹھا لیا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب امریکا نے روسی تیل پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں بھارت کے لیے درآمدی منصوبوں کی معاشی اور قانونی حیثیت یکسر بدل گئی۔ریلائنس انڈسٹریز کے یہ سودے مجموعی طور پر 33 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے تھے، اور گزشتہ برسوں میں بھارت روسی تیل کی خرید و فروخت سے نہ صرف ملکی ریفائنریز کو سستا ایندھن فراہم کرتا رہا بلکہ اربوں ڈالر کے معاشی فوائد بھی حاصل کرتا رہا۔ مگر ٹرمپ انتظامیہ نے سخت موقف اپناتے ہوئے صاف کہہ دیا تھا کہ روس سے بھارت کا تیل لین دین ختم کیے بغیر واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان تجارتی معاہدے کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت اور ریلائنس نے دباو سے بچنے کی کئی کوششیں کیں، جن میں ”کمپیٹوائزڈ ٹرانس شپمنٹ“ اور ”تھرڈ پارٹی انوائسنگ“ جیسے پیچیدہ میکانزم بھی شامل تھے، لیکن امریکی پالیسی کی سختی کے سامنے یہ تمام راستے بند ہو گئے۔بھارت اب روس سے سستے تیل کی فراہمی کھونے کے بعد مشرقِ وسطیٰ اور امریکا سے ہونے والی مہنگی درآمدات پر انحصار کرنے پر مجبور ہے، جس سے ملکی افراط زر، زرمبادلہ کے خسارے اور توانائی لاگت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ بھارت کی اس ”سٹریٹیجک خود مختاری“ کو بڑا دھچکا ہے جسے مودی سرکار بین الاقوامی سطح پر مسلسل بڑھا چڑھا کر پیش کرتی رہی۔بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق ریلائنس کا اچانک یوٹرن نہ صرف بھارت کی آزادانہ خارجہ پالیسی کی کمزور بنیادوں کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ اس بات کو بھی واضح کرتا ہے کہ مودی حکومت کی عالمی سفارت کاری امریکا کے سیاسی اور معاشی دباو کے سامنے محدود ثابت ہو رہی ہے۔ٹرمپ حکومت کے اس سخت پیغام ”یا روسی تیل یا امریکا کے ساتھ تجارتی شراکت“ نے بظاہر بھارت کے لیے کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔ نتیجتاً نئی دہلی نے برسوں پر محیط آمدنی اور سستے ایندھن کے سٹریٹیجک فائدے کو پس پشت ڈال کر واشنگٹن کی لائن اختیار کر لی۔اقتصادی حلقے اسے بھارت کے لیے ایک ”تاریخی پسپائی“ قرار دے رہے ہیں جبکہ مودی حکومت کے ناقدین اسے ”خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی ناکامی“ سے تعبیر کر رہے ہیں۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز