نئی دہلی(ایگزو نیوز ڈیسک)جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں بھارت نے اپنی عسکری صلاحیت کو جدید بنانے کے لیے ایک بڑے دفاعی منصوبے کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے جدید ہتھیاروں اور دفاعی نظام کی خریداری کی منظوری دی گئی ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں اسلحہ کی دوڑ میں تیزی اور طاقت کے توازن میں ممکنہ تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں نئی دفاعی سرمایہ کاری مستقبل کی حکمت عملی کا اہم حصہ بنتی جا رہی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ہندوستان نے اپنے دفاعی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے تقریباً 25 ارب ڈالر مالیت کے دفاعی منصوبوں کی منظوری دے دی ہے،جس سے خطے میں طاقت کے توازن اور سکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔غیر ملکی خبررساں اداروں کے مطابق یہ منظوری بھارت کی دفاعی خریداری کونسل کی جانب سے دی گئی،جس میں مسلح افواج کی آپریشنل صلاحیت کو بڑھانے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔منظور کیے گئے منصوبوں میں درمیانے درجے کے ٹرانسپورٹ طیاروں،طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید فضائی دفاعی نظام اور بغیر پائلٹ حملہ آور طیاروں کی خریداری شامل ہے۔
سرکاری تفصیلات کے مطابق بھارتی فوج کے لیے ائیر ڈیفنس ٹریکڈ سسٹم،بکتر شکن ٹینک گولہ بارود،ہائی کیپیسٹی ریڈیو ریلے سسٹم،دھنوش گن سسٹم اور رن وے سے آزاد فضائی نگرانی کے جدید نظام کی منظوری دی گئی ہے،جس کا مقصد زمینی اور فضائی دفاع کو مزید مضبوط بنانا ہے۔بھارتی فضائیہ کے لیے بھی اہم فیصلے کیے گئے ہیں، جن کے تحت درمیانے درجے کے ٹرانسپورٹ طیاروں کی خریداری،طویل فاصلے تک مار کرنے والے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹمز کا حصول،جدید ڈرونز کی شمولیت اور موجودہ لڑاکا طیاروں کے انجن کی مرمت و بحالی شامل ہے۔ان اقدامات سے فضائیہ کی رسائی،رفتار اور حملہ آور صلاحیت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
مزید برآں، بھارتی کوسٹ گارڈ کے لیے بھاری صلاحیت کے حامل ایئر کشن وہیکلز کی خریداری کی منظوری بھی دی گئی ہے،جس سے سمندری حدود کی نگرانی اور ساحلی سکیورٹی کو موثر بنانے میں مدد ملے گی۔دفاعی ماہرین کے مطابق یہ فیصلے نہ صرف بھارت کی عسکری حکمت عملی میں اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ خطے میں اسلحہ کی دوڑ کو بھی مزید تیز کر سکتے ہیں۔ان منصوبوں پر عمل درآمد سے بھارت کی دفاعی صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا تاہم اس کے علاقائی امن و استحکام پر اثرات بھی زیر بحث آ سکتے ہیں۔