اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان نے اپنے والد کی صحت سے متعلق حکومتی دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اگر عمران خان واقعی مکمل طور پر تندرست ہیں تو ان کا آزادانہ طبی معائنہ کرایا جائے اور اس کے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق آن لائن پریس بریفنگ کے دوران دونوں بھائیوں قاسم اور سلیمان خان نے کہا کہ ان کی جدوجہد خاندانی سیاست کے لیے نہیں بلکہ اپنے والد کی رہائی اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہے۔قاسم اور سلیمان خان نے کہا کہ عمران خان نے طویل سیاسی جدوجہد کے دوران متعدد مشکلات کا سامنا کیا،ان پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا اور اب وہ تقریباً تین سال سے قید میں ہیں تاہم ان کے مطابق عمران خان اپنے سیاسی اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹے۔قاسم خان کا کہنا تھا کہ والد کی صحت کے حوالے سے خاندان کو شدید تشویش ہے،اگر حکومت کا موقف یہ ہے کہ عمران خان بالکل صحت مند ہیں تو انہیں کسی ایسے طبی ماہر یا میڈیکل بورڈ سے آزادانہ معائنہ کرانے میں اعتراض نہیں ہونا چاہیے جس کی غیر جانب داری پر کوئی سوال نہ اٹھ سکے،طبی معائنے کے نتائج سامنے آنے سے صحت سے متعلق تمام خدشات اور قیاس آرائیاں ختم ہوسکتی ہیں۔
سلیمان خان نے بھی والد کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان مضبوط اعصاب کے مالک ہیں اور انہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی حوصلہ نہیں ہارا تاہم ان کے بلڈ پریشر اور بے چینی سے متعلق اطلاعات نے دونوں بھائیوں کو فکرمند کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کے بھائی کئی برس سے اپنے والد سے بالمشافہ ملاقات نہیں کر سکے،پاکستان آنے کے لیے ویزا حاصل کرنے کی کوششیں کی گئیں لیکن ان کی درخواستوں پر پیش رفت نہیں ہوئی جبکہ والد سے ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو بھی مستقل نہیں رہی۔سلیمان خان کے مطابق والد سے آخری بالمشافہ ملاقات نومبر 2022 میں اس وقت ہوئی تھی جب عمران خان پر حملہ ہوا تھا جبکہ آخری ٹیلی فونک رابطہ مارچ 2026 میں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی ماہ سے دونوں بھائی اپنے والد سے فون پر بھی بات نہیں کر سکے۔
قاسم خان نے کہا کہ دونوں بھائی عمران خان کی رہائی اور انہیں مبینہ طور پر مناسب طبی سہولیات کی عدم فراہمی کے معاملے کو عالمی سطح پر اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں،وہ مختلف مغربی ممالک کی حکومتوں،ارکان پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطے کریں گے تاکہ عمران خان کے معاملے پر توجہ دلائی جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ امریکا میں پی ٹی آئی کے حامیوں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہ راست بات چیت کی کوشش کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت امریکی صدر کے اپنے مختلف سیاسی اور حکومتی مفادات ہیں۔قاسم خان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ خاندان نے برطانوی حکومت سے دونوں بھائیوں کے پاکستان آنے کے معاملے پر رابطہ کیا تاہم انہیں مطلوبہ تعاون حاصل نہیں ہو سکا۔ان کے مطابق سکیورٹی خدشات اور گرفتاری کے خدشے کے باعث دونوں بھائی پاکستان آنے سے قاصر رہے۔
سلیمان خان نے عمران خان کی حراست کے حالات پر بھی اعتراضات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے والد کو طویل عرصے سے تنہائی میں رکھا جا رہا ہے اور اہل خانہ تک ان کی رسائی محدود کردی گئی ہے۔انہوں نے اسے انسانی حقوق کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خاندان اپنے والد کے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھاتا رہے گا۔دونوں بھائیوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ عمران خان کے معاملے پر عالمی سطح پر مختلف فورمز پر آواز اٹھائی جا رہی ہے،اقوام متحدہ کے متعلقہ ورکنگ گروپ ،امریکی کانگریس کے ارکان اور برطانوی ہاوس آف لارڈز کے بعض ارکان بھی اس معاملے پر توجہ دے چکے ہیں۔قاسم خان نے مزید کہا کہ خاندان عمران خان کی صحت اور قانونی صورتحال کے حوالے سے عالمی برادری سے رابطے جاری رکھے گا اور ان کی خواہش ہے کہ ان کے والد کو مناسب طبی سہولیات کے ساتھ ماہر ڈاکٹروں تک رسائی بھی فراہم کی جائے۔
پریس بریفنگ کے دوران عمران خان کے بیٹوں نے عدالتی احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے طبی سہولیات،میڈیکل بورڈ اور بچوں سے رابطے سے متعلق احکامات کے باوجود ان پر مکمل طور پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔سلیمان خان نے پاکستانی سیاسی صورتحال پر بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ملک میں سیاسی مخالفین کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے اور پاکستان آمرانہ طرزِ حکمرانی کی جانب بڑھ رہا ہے۔انہوں نے عمران خان کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔قاسم خان اور سلیمان خان نے واضح کیا کہ ان کی تمام تر کوششیں اپنے والد کی سیاسی وراثت سنبھالنے کے بجائے ان کی رہائی،صحت اور بنیادی حقوق کے تحفظ تک محدود ہیں۔دونوں بھائیوں نے کہا کہ وہ خاندانی سیاست کے حامی نہیں اور عمران خان بھی اصولی طور پر خاندانی سیاست کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔انہوں نے حکومت پاکستان کو ایک مرتبہ پھر چیلنج دیا کہ اگر عمران خان کی صحت کے حوالے سے کوئی خطرہ نہیں اور وہ مکمل طور پر تندرست ہیں تو ایک آزاد اور شفاف طبی معائنہ کراکے اس کے نتائج سامنے لائے جائیں،ایسا اقدام ہی ان کے والد کی صحت سے متعلق پیدا ہونے والے خدشات کا قابلِ اعتماد جواب ہوسکتا ہے۔