Home » قیدِ تنہائی یا وی آئی پی سہولتیں؟عمران خان جیل میں کیسی زندگی گذار رہے ہیں؟حکومت کا حیران کن دعویٰ،بیرسٹر سلمان صفدر نے بھی کچا چٹھا کھول دیا

قیدِ تنہائی یا وی آئی پی سہولتیں؟عمران خان جیل میں کیسی زندگی گذار رہے ہیں؟حکومت کا حیران کن دعویٰ،بیرسٹر سلمان صفدر نے بھی کچا چٹھا کھول دیا

by ahmedportugal
20 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جیل میں مبینہ قیدِ تنہائی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران ان کی جیل زندگی پر متضاد دعوے سامنے آ گئے ہیں۔ایک جانب حکومتی نمائندوں نے موقف اختیار کیا کہ عمران خان کو بی کلاس سے بھی بہتر سہولیات میسر ہیں اور انہیں قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا گیا تو دوسری جانب درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے ملاقاتوں پر پابندیوں،ذہنی دباو اور صحت سے متعلق خدشات کو اجاگر کرتے ہوئے صورتحال کو تشویشناک قرار دیا۔عدالت نے دونوں فریقین کے موقف کا جائزہ لیتے ہوئے مزید شواہد طلب کر لیے ہیں،جس کے بعد اس اہم معاملے پر فیصلہ متوقع ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی مبینہ قیدِ تنہائی کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران جیل میں ان کی حالت اور سہولیات سے متعلق متضاد موقف سامنے آگئے،جس نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔جسٹس خادم حسین سومرو نے کیس کی سماعت کی،جہاں درخواست گزاروں کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر پیش ہوئے جبکہ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک اور اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ ساجد بیگ بھی عدالت میں موجود تھے۔ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا گیا بلکہ انہیں بی کلاس سے بھی بہتر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ان کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر دیگر قیدیوں سے ملاقات محدود ہے،جسے غلط طور پر قیدِ تنہائی قرار دیا جا رہا ہے۔جیل سپرنٹنڈنٹ نے اپنی رپورٹ میں موقف اختیار کیا کہ قیدِ تنہائی میں قیدی کو مسلسل سیل میں بند رکھا جاتا ہے جبکہ عمران خان کو سات سیلز پر مشتمل کمپاونڈ میں نقل و حرکت کی آزادی حاصل ہے اور ایک سزا یافتہ مشقتی بھی ان کے ساتھ موجود رہتا ہے۔

حکام کے مطابق عمران خان کو ٹی وی،اخبارات اور کتب تک رسائی حاصل ہے،انہیں باقاعدگی سے دو اخبارات فراہم کیے جا رہے ہیں جبکہ اب تک 500 سے زائد کتابیں بھی دی جا چکی ہیں۔دوسری جانب بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کے روبرو موقف اپنایا کہ وہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر بطور فرینڈ آف دی کورٹ عمران خان سے ملے،جہاں انہوں نے ان کی بینائی متاثر ہونے کی نشاندہی کی۔ان کے مطابق عمران خان نے کھانے،سیکیورٹی اور دیگر بنیادی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا تاہم اپنی بینائی سے متعلق شدید خدشات ظاہر کیے۔وکیل نے مزید کہا کہ انہیں سات ماہ تک اپنے موکل سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اور چیف جسٹس کی مداخلت کے بعد اپریل میں محدود وقت کے لیے ملاقات ممکن ہوئی،جس دوران عمران خان نے ذہنی دباو اور ملاقاتوں پر پابندیوں کی شکایت کی۔سلمان صفدر کے مطابق عمران خان نے دعویٰ کیا کہ انہیں اور بشریٰ بی بی کو بالترتیب 22 اور 24 گھنٹے قید رکھا جاتا ہے اور ٹی وی موجود ہونے کے باوجود چینلز تک رسائی نہیں۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خانم کو متعدد بار جیل جانے کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں ملی جبکہ گزشتہ آٹھ ماہ سے ان کی اپنے بیٹوں سے ٹیلیفونک گفتگو بھی نہیں کرائی گئی،جسے انہوں نے نفسیاتی دباو قرار دیا۔عدالت سے استدعا کی گئی کہ وہ خود یا وکلا پر مشتمل پینل کے ذریعے جیل کا دورہ کروا کر اصل صورتحال کا جائزہ لے اور قیدیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔اس پر عدالت نے فریقین کو تحریری دلائل اور عدالتی نظائر جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ تمام نکات کا جائزہ لینے کے بعد مناسب حکم جاری کیا جائے گا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز