اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی قانونی جدوجہد کے حوالے سے ان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے واضح اعلان کیا ہے کہ اگر القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت مل جاتی ہے تو عمران خان کی رہائی یقینی ہے،پورا پاکستان اس حقیقت سے با خبر ہے کہ سابق وزیر اعظم کے خلاف بنائے گئے سیکڑوں مقدمات کسی انصاف کے تقاضے کے بجائے مخصوص منصوبہ بندی کا حصہ ہیں اور انصاف کے نام پر یہ کھیل قوم کے سامنے عیاں ہو چکا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق میڈیا سے گفتگومیں علیمہ خان کا دعویٰ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پورا سکرپٹ پہلے سے تیار ہے،ایک طرف توشہ خانہ کیس میں سزا سنائی جاتی ہے اور دوسری طرف اس کیس میں ضمانت دی جاتی ہے تا کہ انصاف کا تاثر دیا جا سکے لیکن حقیقت میں یہ انصاف نہیں،عمران خان کے خلاف اب تک 300 سے زائد مقدمات بنائے جا چکے ہیں اور 26ویں ترمیم بھی صرف انہی کے لیے لائی گئی ہے مگر اس کے اثرات پورے ملک پر پڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ سلمان صفدر نے توشہ خانہ پر کیس فائل کیا ہوا کہ آپ یہ کیس سن نہیں سکتے،جب ایک کیس میں سزا ہو جائے تو وہ دوبارہ نہیں لگ سکتا،عدالتوں کے اندر ہی غیر قانونی کام ہو رہا ہے اور عمران خان کو سزا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔علیمہ خان نے واضح کیا کہ پاکستان کے عدالتی نظام میں بہت ججز ایسے بھی ہیں جنہوں نے کیگرو کورٹس میں جانے سے انکار کیا اور اپنے ضمیر کی آواز پر ڈٹ گئے۔ انہوں نے باقی ججز پر بھی زور دیا کہ وہ انصاف کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر فیصلے کریں ورنہ تاریخ انہیں بھی یاد رکھے گی،جیسے آج جسٹس منیر کو یاد رکھا جاتا ہے۔اس موقع پر بیرسٹر سلمان صفدر نے بھی اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ القادر ٹرسٹ کیس محض 3 منٹ کا معاملہ ہے اور اگر اسے کھولا گیا تو انصاف دینا ناگزیر ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ کیس بھی غیر قانونی طور پر لایا گیا ہے تاکہ اصل مقدمے پر پردہ ڈالا جا سکے۔
ججز ضمیر کے مطابق فیصلہ کریں،عمران خان کی آزادی القادر کیس سے مشروط ہے،علیمہ خان
7