راولپنڈی(ایگزو نیوز ڈیسک)اڈیالہ جیل میں ایک ماہ کی قیدِ تنہائی کے بعد سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں انہوں نے شدید نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں،عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں،وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی تحریک انصاف میں کوئی جگہ نہیں،سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے،گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے؟تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے موجودہ نظام کے خلاف جو بھی کال دی جائے،تحریک انصاف کو اس پر مکمل عمل کرے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے بانی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان سے مختصر ملاقات کی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں اور ان کی اہلیہ بشریٰ بیگم کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے،انہیں مکمل طور پر ایک سیل میں بند کرکے قید تنہائی میں ڈالا گیا ہے اور چار ہفتوں تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی اور بیرونی دنیا سے بالکل بے خبر رکھا گیا،جیل مینول کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔عمران خان نے کہا کہ ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پر پابندی لگائی گئی اور اب وکلا اور اہل خانہ سے ملاقات بھی روک دی گئی ہے،انسانی حقوق کے کسی بھی چارٹر کے مطابق ذہنی تشدد کو بھی ٹارچر ہی سمجھا جاتا ہے اور اسے جسمانی تشدد سے زیادہ سنگین عمل قرار دیا جاتا ہے۔
اپنی بہن نورین نیازی کے ساتھ ہونے والے سلوک کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان نے الزام عائد کیا کہ میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا،صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں،یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے،اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے،میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے،ان کے بچوں سے بھی ان کی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی،ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے،ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں،جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی،پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے،ایکسٹینشن مافیا،لینڈ مافیا،چینی مافیا،مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی،آپ آج ان کے غلام ہیں،آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی،اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر حقیقی آزادی کے لیے کھڑا ہونا ہے۔اپنی پارٹی کے اندرونی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے،ایسے لوگ تحریک انصاف کے “میر صادق” اور “میر جعفر” ہیں،این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے،ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
سیکیورٹی پالیسیوں پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے دعویٰ کیا کہ میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے،عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں،اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشت گردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے،اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے،یہ جو کچھ کر رہا ہے،محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے،افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا،اس کا مقصد ہے کہ اسے “”انٹرنیشنلی مجاہد“ سمجھا جائے،اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا،پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے،اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
عمران خان نے سہیل آفریدی کی مزاحمتی حکمت عملی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے،سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے،اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے،قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے،سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے،میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔گورنر راج کی دھمکیوں کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ لگانا ہے تو آج لگا لیں، پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے۔مزید برآں، انہوں نے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو جمہوریت پسند اور اصول پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں،وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں،مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا،میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تا کہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے،اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے۔