اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)بانی پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلخانہ سے ملاقاتوں اور ان کے صاحبزادوں سے ٹیلی فونک رابطے کا معاملہ ایک بار پھر سپریم کورٹ پہنچ گیا،جہاں ان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کے موقف کے ساتھ ایک اور توہینِ عدالت کی درخواست دائر کردی۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایڈووکیٹ عزیر کرامت بھنڈاری کے توسط سے دائر درخواست میں ڈاکٹر عظمیٰ خان نے موقف اختیار کیا ہے کہ سپریم کورٹ نے 18 اگست کو جاری اپنے عبوری حکم میں متعلقہ حکام کو عمران خان کی اہلخانہ سے ہفتے میں ایک مرتبہ ملاقات کرانے اور ان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان سے ہفتے میں دو بار فون پر گفتگو کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی تاہم درخواست گزار کے مطابق ان احکامات پر ان کی روح کے مطابق عمل نہیں کیا گیا۔درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد گزرنے والے 14 روز کے دوران عمران خان کی صرف ان کی بہن نورین نیازی سے دو مرتبہ،18 اور 25 اگست کو ملاقات کرائی گئی جبکہ ڈاکٹر عظمیٰ خان سمیت دیگر اہلخانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
درخواست گزار کے مطابق عدالتی حکم میں اہلخانہ سے ہفتہ وار ملاقات کا حق واضح طور پر تسلیم کیا گیا تھا،اس لیے کسی مخصوص فرد تک ملاقات محدود کرنا عدالتی ہدایات کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔ڈاکٹر عظمیٰ خان نے موقف اختیار کیا ہے کہ انہیں اور دیگر اہلخانہ کو ملاقات سے محروم رکھنے کی کوئی قابلِ قبول قانونی وجہ بھی فراہم نہیں کی گئی۔درخواست میں عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان سے فون پر رابطے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے۔درخواست گزار کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی واضح ہدایت کے باوجود دونوں بیٹوں کو اپنے والد سے ٹیلی فون پر گفتگو کی سہولت فراہم نہیں کی گئی اور وہ مارچ سے عمران خان سے بات نہیں کرسکے۔ڈاکٹر عظمیٰ خان نے اپنی درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ 18 اگست کا سپریم کورٹ کا عبوری حکم واضح،غیر مبہم اور قابلِ عمل تھا اور اس پر عملدرآمد کے لیے کسی مزید وضاحت یا تشریح کی ضرورت نہیں تھی۔ان کے مطابق متعلقہ حکام عدالتی حکم کے پابند تھے اور انہیں اس کی عبارت کے ساتھ ساتھ اس کی روح کے مطابق بھی عملدرآمد یقینی بنانا چاہیے تھا۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر مبینہ طور پر عملدرآمد نہ کرنے والے ذمہ داران کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے اور عدالتی ہدایات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے مناسب احکامات جاری کیے جائیں۔ڈاکٹر عظمیٰ خان نے درخواست میں وزیراعظم شہباز شریف، اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ سجاد بیگ،آئی جی پنجاب،سیکریٹری داخلہ اور چیف کمشنر اسلام آباد کو فریق بنایا ہے۔یہ معاملہ ایسے وقت میں دوبارہ عدالت عظمیٰ کے سامنے آیا ہے جب عمران خان کی جیل میں اہلخانہ،وکلا اور دیگر متعلقہ افراد سے ملاقاتوں کے طریقہ کار پر طویل عرصے سے قانونی بحث جاری ہے۔درخواست گزار کی جانب سے بنیادی موقف یہ ہے کہ عدالتی احکامات کا مقصد صرف ملاقات کی اصولی اجازت دینا نہیں بلکہ اس حق کو عملی طور پر یقینی بنانا بھی تھا۔اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ عمران خان کو ہفتے میں دو روز،منگل اور جمعرات کو اہلخانہ،وکلا اور دیگر متعلقہ افراد سے ملاقات کی اجازت دے چکی ہے۔
بعد ازاں ملاقاتوں اور طبی سہولیات سے متعلق معاملات مختلف عدالتی فورمز پر زیر بحث رہے۔18 اگست کے سپریم کورٹ کے عبوری حکم میں عمران خان کے طبی معائنے کے ساتھ اہلخانہ سے ہفتہ وار ملاقات اور ان کے صاحبزادوں سے ہفتے میں دو مرتبہ ٹیلی فونک گفتگو کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی تاہم ڈاکٹر عظمیٰ خان کا کہنا ہے کہ عملی طور پر ان ہدایات پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا گیا۔درخواست گزار کی جانب سے یہ بھی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد ریاستی اداروں کی بنیادی قانونی ذمہ داری ہے اور اگر کسی حکم پر عملدرآمد میں انتظامی یا سیکیورٹی نوعیت کی کوئی رکاوٹ ہو تو متعلقہ حکام کو عدالت سے رجوع کرکے وضاحت یا مناسب ترمیم کی درخواست کرنی چاہیے،نہ کہ ازخود عدالتی حکم کے دائرہ کار کو محدود کرنا چاہیے۔
دوسری جانب ڈاکٹر عظمیٰ خان کی جانب سے دائر کی گئی پہلی توہینِ عدالت درخواست کی جلد سماعت سے متعلق درخواست سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے مسترد کیے جانے کا بھی ذکر موجودہ درخواست میں کیا گیا ہے۔دوسری درخواست بھی منگل کو مسترد کردی گئی جبکہ پہلی توہینِ عدالت درخواست کی باقاعدہ سماعت کے لیے سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ 16 ستمبر کو مقرر کیا گیا ہے۔نئی درخواست میں عدالت عظمیٰ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سابقہ عبوری حکم پر عملدرآمد کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے،ذمہ دار حکام سے وضاحت طلب کی جائے اور اگر عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔یوں عمران خان کی جیل ملاقاتوں اور اہلخانہ سے رابطے کا معاملہ ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ کے سامنے آ گیا ہے،جہاں اب بنیادی سوال یہ ہو گا کہ 18 اگست کے عبوری حکم پر کس حد تک عملدرآمد ہوا اور اگر درخواست گزار کے اعتراضات درست ہیں تو عدالتی ہدایات پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔