راولپنڈی(ایگزو نیوز ڈیسک)اڈیالہ جیل میں پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے بانی و سابق وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کا آج کا مقررہ وقت ختم ہوگیا تاہم عمران خان کی تینوں بہنوں علیمہ خان، نورین خان اور عظمیٰ خان سمیت کسی بھی پی ٹی آئی رہنما کو ملاقات کی اجازت نہ دی گئی۔ ملاقات نہ ہونے پر عمران خان کی بہنوں اور کارکنان نے فیکٹری ناکے پر دھرنا دے رکھا ہے، جو تاحال جاری ہے۔علیمہ خان کا کہنا تھا کہ آج ہم سارے انتظامات کر کے آئے ہیں، کمبل لائے ہیں، چادریں لائے ہیں، ہم ڈرنے والے نہیں ہیں، یہ ہمارا کیا کر سکتے ہیں؟ اگر مار بھی دیں تو عمران خان کے لیے جان بھی دینی پڑی تو دے دیں گے،دوسری طرف کارکنان کا کہنا ہے کہ وہ صرف بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت ملنے تک دھرنا ختم نہیں کریں گے۔
ایگزو نیوز کے مطابق منگل کے روز اڈیالہ جیل کے اطراف پولیس نے سخت سیکیورٹی کے انتظامات کیے ہیں اور دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے،جیل کے داخلی راستوں پر بھاری نفری تعینات ہے، قیدی وینیں موجود ہیں جبکہ گورکھپور مقام پر اینٹی رائٹس والز اور جیل گیٹ نمبر 5 کے باہر واٹر کینن بھی تعینات کیے گئے ہیں۔علیمہ خان کا کہنا تھا کہ آج مجھے کسی نے کہا کہ آپ نے فوج کے سربراہ کو کہا تو میں نے کہا جس کو تم نے قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے وہ 20 کروڑ کا سربراہ ہے،آئین کہتا ہے عوام ریاست ہیں، ایک سرکاری ملازم جو ہمارے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہ لیتا ہے وہ کیسے ریاست ہو گیا؟ ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان ادارے کے خلاف نہیں بولتا، وہ کہتا ہے کہ میں عاصم لا کے خلاف ہوں کیونکہ یہ سب عاصم لا کے تحت ہو رہا ہے،اس دِن جب ہم پر پانی پھینکا جارہا تھا تو ہم لوگ گر رہے تھے،میں نے دیکھا کہ ایک نوجوان پانی کے سامنے کھڑا ہے، اگلے روز معلوم ہوا کہ وہ اعجاز ہے،یہ میری بہنوں کو بچانے کیلئے پانی کے سامنے کھڑا ہوا تھا اور اس سب کے بعد بھی آج یہ سب دوبارہ یہاں آئے ہوئے ہیں،سارا پاکستان مجبوری میں ہے،پولیس مجبور ہے،میڈیا مجبور ہے لیکن ہم مجبور نہیں ہیں کیونکہ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ آزادی یا موت۔علیمہ خان کا کہنا تھا کہ یہ ہوتے کون ہیں ہمیں روکنے والے؟ ہم یہاں بیٹھے رہیں گے، یہ ہمارا ملک، ہے یہ سڑک بھی ہماری ہے،ہم ٹیکس دیتے ہیں،اگر انہوں نے عمران خان کو نہ کھولا تو ہم پہلے خیبرپختونخوا پھر ملک بند کردینگے،یہ گھٹنوں کے بل آجائیں گے۔
یاد رہے کہ اڈیالہ جیل انتظامیہ کو گزشتہ روز عمران خان سے ملاقات کے لیے پی ٹی آئی رہنماوں کی فہرست فراہم کی گئی تھی،جس میں بیرسٹر گوہر سمیت 6 رہنماوں کے نام شامل تھے تاہم آج بہنوں اور کسی بھی پارٹی رہنما کی ملاقات ممکن نہ ہوسکی۔پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ بھی دھرنے کے موقع پر فیکٹری ناکے پر پہنچے اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی بہنوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ہر کسی کو شریک ہونا چاہیے، نہ کہ صرف ارکان اسمبلی تک محدود۔ انہوں نے سانحہ اے پی ایس کے افسوسناک واقعے اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے رجحانات پر اظہار تشویش کیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے قبائلی علاقوں کے انضمام کے بعد عوام سے کیے گئے وعدوں پر عمل نہ ہونے پر بھی شکوہ کیا۔