Home » اڈیالہ جیل میں عمران خان سے سائبر انویسٹی گیشن کی تفتیش،کپتان کا اپنے کھلاڑیوں کے نام بتانے سے صاف انکار

اڈیالہ جیل میں عمران خان سے سائبر انویسٹی گیشن کی تفتیش،کپتان کا اپنے کھلاڑیوں کے نام بتانے سے صاف انکار

by ahmedportugal
5 views
A+A-
Reset

راولپنڈی(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان میں سیاسی کشمکش اور ڈیجیٹل دنیا میں بیانیے کی جنگ ایک نئے موڑ پر پہنچ گئی،نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)کی ٹیم نے اڈیالہ جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے بانی چیئرمین اور سابق وذیر اعظم عمران خان سے ان کے ایکس(سابق ٹوئٹر) اکاونٹ کے حوالے سے تفصیلی پوچھ گچھ کی تا ہم ذرائع کے مطابق عمران خان  نے اس بارے میں کوئی معلومات دینے سے صاف انکار کر دیا،یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب حکومتی حلقوں کی جانب سے بارہا الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ عمران خان کے ایکس اکاونٹ سے ریاست مخالف مواد شیئر ہوتا ہے،جس کے اثرات داخلی سیاست سے لے کر عالمی رائے عامہ تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی تین رکنی ٹیم،جس کی قیادت ایاز خان کر رہے تھے،ایک گھنٹے سے زائد اڈیالہ جیل میں موجود رہی۔ ٹیم  نے عمران خان سے براہِ راست سوالات کیے کہ ان کا ایکس اکاونٹ کون استعمال کرتا ہے،یہ کہاں سے آپریٹ ہوتا ہے اور اس تک رسائی کس کو دی گئی ہے؟مزید یہ بھی پوچھا گیا کہ ان کے ایکس اکاونٹ سے جو مواد پوسٹ ہوتا ہے،کیا وہ اس سے آگاہ ہوتے ہیں اور یہ کہ ان پوسٹس میں ریاست مخالف بیانیہ کیوں جھلکتا ہے؟۔ذرائع کے مطابق عمران خان  نے صاف گوئی سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ یہ راز نہیں بتائیں گے کہ ان کا ایکس اکاونٹ کون چلاتا ہے؟ان کا یہ انکار نہ صرف تفتیشی عمل کے لیے رکاوٹ بنا بلکہ اس نے اس سوال کو مزید سنگین بنا دیا کہ ملک میں سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے سیاسی رہنما کے ڈیجیٹل بیانیے کی تشکیل کس کے ہاتھ میں ہے۔تفتیش کے دوران جب عمران خان سے پوچھا گیا کہ جیل کے اندر سے آپ کے پیغامات سوشل میڈیا ٹیم تک کیسے پہنچتے ہیں؟توانہوں نے جواب دیا کہ کوئی خاص پیغام رساں موجود نہیں بلکہ جب کوئی ملاقات کے لیے آتا ہے تو وہی پیغام باہر ٹیم تک پہنچا دیتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ اگرانہوں  نے بتا دیا کہ سوشل میڈیا اکاونٹس کون چلاتا ہے تو وہ شخص اغوا کرلیا جائے گا،اس لیے وہ کسی بھی فرد کا نام ظاہر نہیں کریں گے۔این سی سی آئی اے حکام نے تفتیشی رپورٹ تیار کرنے کے بعد مزید اقدامات کے لیے اعلیٰ حکام کو آگاہ کردیا ہے۔

واضح رہے کہ عمران خان کے ’ایکس ‘اکاونٹ سے مسلسل فیلڈ مارشل کے خلاف سخت الزامات عائد کئے جا رہے ہیں جبکہ حکومت اور ملکی نظام عدل کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔این سی سی آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم کا اڈیالہ جیل میں جا کر عمران خان سے تفتیش کرنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مقتدر حلقوں اور حکومتی ایوانوں میں عمران خان کے مسلسل بیانات سے دباو بڑھ رہا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی عمران خان گرفت میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ محض ایک سوشل میڈیا اکاونٹ کا نہیں بلکہ ڈیجیٹل پالیسی،سیاسی شفافیت اور ریاستی سلامتی کے تناظر میں ایک بڑے چیلنج کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ حکومتی ادارے جہاں سوشل میڈیا پر پھیلنے والے مواد کو ریاست مخالف قرار دے رہے ہیں،وہیں پی ٹی آئی کے حامیوں کا موقف ہے کہ یہ محض اظہار رائے کی آزادی کو محدود کرنے کی ایک کوشش ہے۔یہ صورتحال ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل سیاست اور اظہار رائے کا مستقبل کس سمت جا رہا ہے، اور کیا سیاسی بیانیہ اب جیل کی دیواروں سے باہر ایکس کے ذریعے لڑا جائے گا؟۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز