اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیر اعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر سماعت کے دوران کیس نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا،جہاں دفاعی وکیل کے سنسنی خیز دعووں نے عدالت کو چونکا دیا۔قیدِ تنہائی،بگڑتی صحت اور انسانی حقوق سے متعلق سنگین سوالات اٹھنے کے بعد عدالت نے غیر معمولی پیش رفت کرتے ہوئے سماعت کی رفتار تیز کرنے کا عندیہ دے دیا،جس سے اس ہائی پروفائل کیس میں جلد بڑے فیصلے کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190 ملین پاونڈ کیس کے سلسلے میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں اور سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کے دوران اہم اور چونکا دینے والے نکات سامنے آئے،جہاں دفاعی وکیل نے قیدِ تنہائی اور صحت سے متعلق سنگین خدشات اٹھا دیے جبکہ عدالت نے اپیلوں پر جلد سماعت کا عندیہ دے کر کیس کو نئی سمت دے دی۔چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،جس میں بانی پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر جبکہ نیب کی نمائندگی پراسیکیوٹرز جاوید اشرف اور رافع مقصود نے کی۔سماعت کے دوران بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 8 اپریل کو عدالتی حکم کے باوجود انہیں بشریٰ بی بی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی،جو کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے جبکہ ان کی آخری ملاقات دسمبر 2025 میں ہوئی تھی۔وکیل نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ عمران خان کی صحت تشویشناک حد تک متاثر ہو چکی ہے،بانی پی ٹی آئی نے خود بتایا کہ ان کی تقریباً 85 فیصد بینائی متاثر ہو چکی اور ایک آنکھ سے دیکھنے میں بھی شدید دشواری کا سامنا ہے جبکہ ڈاکٹروں نے بہتری کے امکانات کم ظاہر کیے ہیں،جیل میں طبی سہولیات ناکافی ہیں جس کے باعث انہیں حال ہی میں ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔
سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کو روزانہ 22 گھنٹے جبکہ بشریٰ بی بی کو 24 گھنٹے قیدِ تنہائی میں رکھا جا رہا ہے،جو نہ صرف غیر معمولی اقدام ہے بلکہ انسانی حقوق کے بھی منافی ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ عدالتی فیصلے میں قیدِ تنہائی شامل نہ ہونے کے باوجود جیل حکام اس پر عمل کیوں کر رہے ہیں؟۔وکیل نے نیلسن منڈیلا رولز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طویل قیدِ تنہائی کو عالمی سطح پر تشدد کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ آئی جی جیل خانہ جات،جیل سپرنٹنڈنٹ اور متعلقہ طبی عملے کو طلب کر کے صورتحال کی وضاحت طلب کی جائے،ساتھ ہی یہ بھی سوال اٹھایا کہ آیا اڈیالہ جیل میں کوئی ایسا مسئلہ موجود ہے جو قیدیوں کی بینائی متاثر کر رہا ہے۔
دوران سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ اپیلوں پر دلائل کیوں نہیں دیے جا رہے،انہوں نے واضح کیا کہ عدالت اپیل سننے کے لیے تیار ہے اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر کے جلد فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔اس پر بیرسٹر سلمان صفدر نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کی ہدایت ہے کہ پہلے سزا معطلی کی درخواستوں پر دلائل دیے جائیں جبکہ اپیلوں پر دلائل کے لیے ممکنہ طور پر دیگر وکلا پیش ہوں گے۔عدالت نے فریقین کو تیاری کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی تاہم اس واضح اشارے کے ساتھ کہ آئندہ سماعت میں پیش رفت تیز ہو سکتی ہے،جس سے اس ہائی پروفائل کیس میں اہم پیش رفت کا امکان بڑھ گیا ہے۔