ٓاسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)190 ملین پاونڈز کیس میں،عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواست پر 25 ستمبر کو سماعت مقرر کر دی گئی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواست کا مقرر ہونا نہ صرف ایک اہم قانونی پیش رفت ہے بلکہ سیاسی منظرنامے پر بھی دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے، ایک جانب یہ معاملہ احتسابی عمل کی شفافیت اور اس کے دائرہ اختیار پر سوالات کھڑا کرتا ہے، تو دوسری جانب یہ دیکھنا باقی ہے کہ عدالت قانون کے کس زاویے کو ترجیح دیتی ہے؟ کیا یہ فیصلہ محض قانونی بنیادوں پر ہوگا یا سیاسی دباو کی بحث کو بھی جنم دے گا؟ یہ مقدمہ بلاشبہ آنے والے دنوں میں ملکی سیاست کے رخ کا تعین کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190 ملین پاونڈز کیس کے سلسلے میں بانی پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے بریت کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ فریقین کے خلاف کیس میں کوئی قانونی جواز موجود نہیں، اس لیے عدالت انہیں بری قرار دے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کی بریت کی درخواست 25 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دی۔کیس کی سماعت چیف جسٹس عامر فاروق کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئے تعینات چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ کرے گا۔عدالت نے آئندہ تاریخ پر فریقین کو طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ تمام قانونی نکات اور شواہد پر تفصیلی دلائل دیے جائیں تا کہ کیس کے میرٹ پر فیصلہ کیا جا سکے۔
القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواست پر 25 ستمبر کو سماعت مقرر
9