Home » آئی ایم ایف کی ایک اور کڑی شرط پوری، حکومت کا گندم خریداری سے تاریخی انخلا،نجی شعبہ میدان میں،570 ارب کی بچت کا دعویٰ

آئی ایم ایف کی ایک اور کڑی شرط پوری، حکومت کا گندم خریداری سے تاریخی انخلا،نجی شعبہ میدان میں،570 ارب کی بچت کا دعویٰ

by ahmedportugal
5 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)حکومت پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اور بڑی شرط پوری کرتے ہوئے گندم کی خریداری کے عمل سے باضابطہ طور پر باہر نکلنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کے بعد وفاق اور صوبے براہِ راست گندم کی خریداری نہیں کریں گے بلکہ صرف محدود ایمرجنسی اور سٹریٹجک ذخائر رکھے جائیں گے، جب کہ خریداری، فنانسنگ اور ذخیرہ اندوزی کی مکمل ذمہ داری نجی شعبے کو سونپ دی جائے گی۔
ایگزو نیوز کے مطابق وفاقی حکومت اور صوبے مجموعی طور پر سال بھر کے لیے 62 لاکھ میٹرک ٹن گندم کا ذخیرہ رکھیں گے،جو صرف ایمرجنسی اور اسٹریٹجک مقاصد کے لیے ہوگا۔ اس نئی پالیسی کے تحت اسٹریٹجک ذخائر کی خریداری بھی اب وفاقی اداروں کے بجائے ایک نجی کمپنی کرے گی،جب کہ حکومت اس عمل میں محض نگران اور سہولت کار کا کردار ادا کرے گی۔ذرائع کے مطابق طے شدہ فارمولے کے تحت وفاقی حکومت 15 لاکھ میٹرک ٹن،پنجاب 25 لاکھ میٹرک ٹن،سندھ 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم ذخیرہ کرے گا،جب کہ خیبرپختونخوا کو ساڑھے 7 لاکھ میٹرک ٹن اور بلوچستان کو 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم ذخیرہ کرنے کی اجازت دی جائے گی تاہم ان تمام ذخائر کے لیے گندم کی خریداری، فنانسنگ اور گوداموں میں محفوظ رکھنے کی ذمہ داری نجی کمپنی کے پاس ہوگی۔

وزارتِ صنعت و پیداوار کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نجی کمپنی نہ صرف گندم خریدے گی بلکہ اس کی مالی معاونت اور اسٹوریج کے انتظامات بھی خود کرے گی جبکہ وفاقی حکومت اس کے عوض صرف سروسز چارجز ادا کرے گی۔اس نئے نظام کے تحت حکومت کو سالانہ بنیادوں پر تقریباً 570 ارب روپے کی بچت ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے،جو پہلے سبسڈی، خریداری اور بینک فنانسنگ پر خرچ کیے جاتے تھے۔ذرائع کے مطابق وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے سروسز چارجز کی ادائیگی کے لیے 30 ارب روپے مختص کر دیے ہیں جبکہ واضح کر دیا گیا ہے کہ اب گندم کی سپورٹ پرائس پر کسی قسم کی سبسڈی نہیں دی جائے گی۔مستقبل میں گندم کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی کے رجحانات کے مطابق کیا جائے گا،جس کے لیے وزارتِ غذائی تحفظ عالمی بینچ مارک کو مدنظر رکھ کر قیمت طے کرے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے وفاقی حکومت کو گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنے سے بھی روک رکھا ہے،جس کے باعث حکومت کو اس پالیسی میں نرمی کی کوئی گنجائش حاصل نہیں۔ماضی میں وفاقی حکومت گندم کی خریداری کے لیے بینک گارنٹیز فراہم کرتی تھی اور پاکستان ایگریکلچرل سٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو)خریداری کا عمل انجام دیتی تھی تاہم پاسکو کو بروقت ادائیگیاں نہ ہونے کے باعث فوڈ سیکٹر میں گردشی قرض 270 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ جہاں ایک طرف مالی دباو کم کرنے اور آئی ایم ایف پروگرام کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش ہے،وہیں دوسری جانب کسانوں،فلور ملز اور صارفین پر اس کے اثرات کا گہرائی سے جائزہ لینا ناگزیر ہو گا کیونکہ آزاد منڈی کے تحت قیمتوں میں اتار چڑھاو کا براہِ راست اثر عام آدمی تک منتقل ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز