پشاور(ایگزو نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے معاون اختیار ولی خان نے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کی قیادت اور خیبرپختونخوا میں اس کی طویل حکمرانی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکن اپنے بانی کو قائداعظم محمد علی جناح سے بھی بڑا رہنما سمجھتے ہیں اور جماعت کے بعض حلقے دو قومی نظریے سے بھی اتفاق نہیں کرتے،یہ لوگ حکومت میں آئے تو ایٹمی قوت بھی بیچ دیں گے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ مبینہ طور پر ملک دشمن عناصر کی تحریکوں کا حصہ بنتے رہے ہیں اور 9 مئی کے واقعات کے تسلسل میں بھی ایسی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے پی ٹی آئی کی سیاسی سوچ،طرزِ حکمرانی اور خیبرپختونخوا میں اس کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھائے۔ان کا کہنا تھا کہ عوام کو ”نئے پاکستان“ اور خوشحال پاکستان کے دعوے کرنے والوں کی پالیسیوں اور عملی کارکردگی کا حساب لینا چاہیے،پی ٹی آئی جیل کی سیاست چھوڑ کر قومی مفاد پر توجہ دے اور میثاقِ جمہوریت کی حمایت کرے،خیبر پختونخوا میں چوری کے موبائل اور موٹرسائیکلیں بیچنے والے آج وزیر اور بڑے ہوٹلوں کے مالک بن گئے ہیں،سوات کے والی کے محلات بھی خرید لیے گئے،جو لوگ عمران خان کو قائد اعظم سے بڑا لیڈر بناتے اور علامہ اقبال کے خواب کا مذاق اڑاتے ہیں،ان کا ایجنڈا کیا ہے؟ آزادی کے مہینے میں قوم سوچے کہ نعرے لگانے والے حقیقت میں کیا کر رہے ہیں؟حکومت اور افواج ملک کو سفارتی کامیابی کی طرف لے جا رہے،خیبرپختونخوا میں منشیات اور سمگلنگ سے وابستہ مافیاز کے افراد حکومت میں بیٹھے ہوئے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں قانون کی بالادستی اور حکمرانی کے حوالے سے سنگین مسائل موجود ہیں،جن پر حکومت اور متعلقہ اداروں کو جواب دینا چاہیے ۔اختیار ولی نے پی ٹی آئی کے دورِ حکومت کی معاشی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نئے اور خوشحال پاکستان کا نعرہ لگانے والوں کی پالیسیوں کا غیر جانب دارانہ جائزہ ضروری ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی حکومت کے دور میں ملک کی موٹر ویز کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے سامنے گروی رکھنے جیسے اقدامات کیے گئے تاہم ان الزامات کی مکمل تفصیلات انہوں نے پریس کانفرنس میں فراہم نہیں کیں۔
انہوں نے سابق پی ٹی آئی حکومت پر بدعنوانی اور سیاسی مخالفین کے خلاف ریاستی اداروں کے مبینہ استعمال کے الزامات بھی عائد کیے۔ان کا کہنا تھا کہ احتساب اور حکمرانی کے نام پر سیاسی مخالفین کو دبانے کے بجائے حکومت کو اپنی کارکردگی اور پالیسیوں کا جواب عوام کو دینا چاہیے۔اختیار ولی نے مذہبی نعروں اور حکومتی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ”مدینہ کی ریاست“ قائم کرنے کے دعوے کرنے والی حکومت کے دور میں حج اور عمرہ کے اخراجات میں اضافہ ہوا۔ان کے مطابق سیاسی جماعتوں اور سابق حکمرانوں سے عوام کو یہ سوال کرنا چاہیے کہ ان کے اعلانات اور عملی اقدامات میں کتنا فرق تھا۔خیبر پختونخوا کی موجودہ صورت حال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون نے کہا کہ صوبے میں صحت اور تعلیم کے شعبوں کی صورتحال تشویشناک ہے۔ان کے مطابق تعلیمی اداروں کے حوالے سے مسائل موجود ہیں اور بعض مقامات پر تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں،جنہیں حکومت کو سنجیدگی سے حل کرنا چاہیے۔انہوں نے صوبے میں جنگلات کی کٹائی اور انتظامی بدانتظامی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ قدرتی وسائل کے تحفظ اور بہتر انتظام کے لیے موثر نگرانی اور شفاف حکمرانی ضروری ہے۔
اختیار ولی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں طویل عرصے سے حکومت کرنے والی جماعت کو اب اپنی کارکردگی کا جواب دینا ہو گا،عوام صرف سیاسی نعروں سے مطمئن نہیں ہوں گے بلکہ صحت،تعلیم،روزگار،امن و امان اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے عملی نتائج چاہتے ہیں۔انہوں نے پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں کو 9 مئی کے واقعات سے جوڑتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جماعت کے بعض عناصر اب بھی ایسے طرزِ عمل کو جاری رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جو ملک میں سیاسی بے چینی اور انتشار کا باعث بن سکتا ہے تاہم ان دعووں کی آزادانہ تصدیق انہوں نے پیش نہیں کی۔وزیراعظم کے معاون نے کہا کہ سیاسی اختلاف جمہوری عمل کا حصہ ہے لیکن اختلاف رائے کو ریاستی اداروں،قومی سلامتی اور ملکی مفاد کے خلاف سرگرمیوں میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے،سیاسی جماعتوں کو آئینی اور جمہوری دائرے میں رہ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔اختیار ولی نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو سیاسی جماعتوں کی کارکردگی،معاشی پالیسیوں اور حکمرانی کے نتائج کا خود جائزہ لینا چاہیے،”نئے پاکستان“ کے دعوے صرف نعروں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں بلکہ ان کا عملی ثبوت تعلیم،صحت،معیشت اور عوامی سہولیات میں بہتری کی صورت میں سامنے آنا چاہیے۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو سیاسی محاذ آرائی کے بجائے بہتر حکمرانی،معاشی مواقع اور بنیادی سہولیات کی ضرورت ہے،صوبے کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور عوام کو محض سیاسی بیانات کے بجائے عملی کارکردگی درکار ہے۔