کراچی(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر تعلیم و تربیت خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ کتابیں ہماری تہذیبی اور فکری میراث ہیں اور نئی نسل کو انٹرنیٹ کی سطحی دنیا سے نکل کر کتاب اور شعور کی طرف لوٹنا ہوگا، کراچی ایک چھوٹا پاکستان ہے جو پورے پاکستان کو پالتا ہے اور جب کراچی چلتا ہے تو پاکستان آگے بڑھتا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق کراچی ایکسپو سینٹر میں جاری پانچ روزہ کراچی ورلڈ بک فیئر کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیریر تعلیم و تربیت خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ گزشتہ 20 برسوں سے یہ بک فیئر علم، شعور اور فکری رونق کی علامت بنا ہوا ہے، کراچی ورلڈ بک فیئر میں آ کر ایمان اور یقین تازہ ہو جاتا ہے کہ یہ قوم ابھی علم سے جڑی ہوئی ہے، پاکستان ہمارا مشترکہ گھر ہے، اسے بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ گزشتہ 17 برسوں سے قومی اتفاقِ رائے کے نام پر کراچی کے ساتھ جو رویہ رکھا گیا، آج وہ سوچ شکست کھا چکی ہے، کراچی نہ صرف معیشت کا مرکز ہے بلکہ فکری اور علمی سرگرمیوں کا بھی دل ہے۔ انہوں نے ڈھائی کروڑ بچوں کے سکولوں سے باہر ہونے کو قومی المیہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ملک گیر تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی جائے تاکہ تعلیم کو قومی ترجیح بنایا جا سکے۔اس موقع پر اپوزیشن لیڈر کراچی علی خورشیدی بھی وفاقی وزیر کے ہمراہ موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جدید دور میں کتاب کی اہمیت ختم ہو چکی ہے، انہیں کراچی ورلڈ بک فیئر آ کر دیکھنا چاہیے، جہاں آج بھی علم اور آگاہی کے متلاشی لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ کراچی ورلڈ بک فیئر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ شہر آج بھی کتابوں سے محبت کرتا ہے اور علم کے چراغ یہاں بجھنے نہیں دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب سے رشتہ جڑا رہے تو معاشرہ فکری طور پر مضبوط رہتا ہے اور یہی مضبوطی قوموں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔
کراچی چلے تو پاکستان پلتا ہے،ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر، تعلیمی ایمرجنسی ناگزیر:وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی
67