Home » نشانہ میں تھا،بڑا سانحہ ٹل گیا،حملے کو ایران سے جوڑنے کا تاثر مسترد،صدر ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو

نشانہ میں تھا،بڑا سانحہ ٹل گیا،حملے کو ایران سے جوڑنے کا تاثر مسترد،صدر ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو

by ahmedportugal
15 views
A+A-
Reset

واشنگٹن(ایگزو نیوز ڈیسک)واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاوس کوریسپونڈنٹس ڈنر کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق وہ ممکنہ طور پر حملہ آور کا ہدف تھے، تاہم بروقت سیکیورٹی کارروائی کے باعث ایک بڑا سانحہ ٹل گیا۔ انہوں نے اس واقعے کو ایران یا کسی بیرونی تنازع سے جوڑنے کے تاثر کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات جاری ہیں اور تمام حقائق جلد سامنے آ جائیں گے۔
ایگزو نیوز کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاوس کوریسپونڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی شواہد کے مطابق حملہ آور ممکنہ طور پر انہیں ہی نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا تاہم انہوں نے اس واقعے کو کسی بین الاقوامی تنازع،خصوصاً ایران سے جوڑنے کے تاثر کو مسترد کر دیا ہے۔ہفتے کی شب پیش آنے والے اس واقعے نے تقریب کو افراتفری میں بدل دیا،جہاں صدر،خاتونِ اول ملانیا ٹرمپ،اعلیٰ حکام اور میڈیا نمائندگان کی بڑی تعداد موجود تھی۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ایک مسلح شخص نے سیکیورٹی چیک پوائنٹ کی جانب بڑھتے ہوئے فائرنگ کی،جس کے نتیجے میں ایک خفیہ سروس اہلکار کو گولی لگی تاہم بلٹ پروف جیکٹ کے باعث وہ محفوظ رہا۔واقعے کے فوری بعد سیکیورٹی اداروں نے نہایت تیزی سے ردعمل دیتے ہوئے حملہ آور کو گرفتار کر لیا اور صدر سمیت تمام اہم شخصیات کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کی آواز سنتے ہی ہال میں موجود افراد میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا،برتن گرنے اور چیخ و پکار کی آوازیں گونجتی رہیں جبکہ متعدد افراد نے میزوں کے نیچے پناہ لی۔

واقعے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ حملہ آور تقریباً 15 گز کے فاصلے سے کارروائی کی کوشش کر رہا تھا اور اس کے پاس متعدد ہتھیار موجود تھے۔انہوں نے خفیہ سروس کی بروقت اور ”بہادرانہ“ کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اہلکاروں نے نہ صرف فوری طور پر حملہ آور کو قابو کیا بلکہ ہزاروں افراد کی جانیں بھی بچائیں۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے زخمی اہلکار سے بات کی ہے اور وہ محفوظ ہے۔انہوں نے اس واقعے کو امریکی سیاست میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ ریپبلکنز کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ان کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزم کا تعلق ریاست کیلیفورنیا سے ہے اور تفتیش جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ اکیلا ملوث تھا یا اس کے پیچھے کوئی منظم نیٹ ورک موجود ہے۔

صدر نے واضح طور پر کہا کہ ان کے خیال میں اس فائرنگ کا ایران یا کسی بیرونی جنگی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں اور تحقیقات مکمل ہونے تک قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس موقع پر قومی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود ملک کو درپیش خطرات کے خلاف متحد ہونا ضروری ہے۔صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اس واقعے کے باوجود سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی اور آئندہ 30 دنوں میں اس سے بھی بڑی تقریب منعقد کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ”ہم خوف کے سامنے نہیں جھکیں گے“ اور سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنا کر عوامی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا۔ حکام کے مطابق حملہ آور کے پس منظر،ممکنہ محرکات اور اس کے رابطوں کی چھان بین جاری ہے جبکہ سیکیورٹی ادارے واقعے کے تمام پہلووں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز