Home » بھوک ہڑتال سے بھڑکتی چنگاری،بدترین لاٹھی چارج کے باوجود احتجاج نے نیا رخ اختیار کر لیا،دہلی میں طلبہ کا دھرنا عوامی سیلاب میں تبدیل

بھوک ہڑتال سے بھڑکتی چنگاری،بدترین لاٹھی چارج کے باوجود احتجاج نے نیا رخ اختیار کر لیا،دہلی میں طلبہ کا دھرنا عوامی سیلاب میں تبدیل

by ahmedportugal
44 views
A+A-
Reset

نئی دہلی(ایگزو نیوز ڈیسک)بھوک ہڑتال سے بھڑکنے والی احتجاجی لہر نے نئی دہلی میں غیر معمولی شدت اختیار کر لی ہے،جہاں طلبہ کا دھرنا بدترین پولیس لاٹھی چارج اور سخت سکیورٹی اقدامات کے باوجود وسیع عوامی تحریک میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔جنتر منتر کے مقام پر جاری اس احتجاج میں نہ صرف ملک کے مختلف حصوں سے آئے نوجوان شریک ہیں بلکہ شہریوں،سماجی حلقوں اور بیرونِ ملک مقیم افراد کی حمایت نے بھی اسے ایک ہمہ گیر آواز بنا دیا ہے۔مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں اور نظام میں شفافیت کے فقدان کے خلاف اٹھنے والی یہ تحریک اب محض تعلیمی مسئلے تک محدود نہیں رہی بلکہ نوجوان نسل کے مستقبل،روزگار اور حکومتی جوابدہی کے مطالبات کی علامت بنتی جا رہی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابقنئی دہلی میں جاری نوجوانوں کی احتجاجی تحریک نے شدت اختیار کر لی ہے، جہاں جنتر منتر کے مقام پر ہزاروں طلبہ اور شہری مسلسل دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ یہ احتجاج، جو ابتدا میں ایک محدود دائرے میں شروع ہوا تھا، اب ملک گیر اور بین الاقوامی توجہ حاصل کر چکا ہے، جبکہ حکومتی دباو اور پولیس کارروائیوں کے باوجود مظاہرین کے حوصلے برقرار ہیں۔ذرائع کے مطابق مظاہرین کو ملک کے مختلف حصوں اور بیرونِ ملک سے غیر معمولی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ کھانے پینے کی اشیا،پانی اور دیگر ضروری سامان آن لائن آرڈرز کے ذریعے احتجاجی مقام تک پہنچایا جا رہا ہے،جسے رضاکار پولیس کی رکاوٹوں کے باوجود مظاہرین تک منتقل کر رہے ہیں۔ اس منظم سپلائی چین نے احتجاج کو مسلسل جاری رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔احتجاج کی بنیادی وجہ مبینہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات ہیں،جن پر طلبہ شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں اور اعلیٰ سطحی احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی نظام میں شفافیت کی کمی نے لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے جبکہ روزگار کے محدود مواقع نے بے چینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب مظاہرین نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کی،جسے پولیس نے طاقت کے استعمال سے روک دیا۔ لاٹھی چارج اور دھکم پیل کے دوران متعدد افراد زخمی ہوئے تاہم کئی مظاہرین علاج کے بعد دوبارہ احتجاج میں شامل ہو گئے،جو ان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔تحریک کو اس وقت مزید تقویت ملی جب ایک سماجی کارکن نے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی،جس کے بعد عوامی شرکت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ احتجاجی مقام پر عارضی طبی کیمپ بھی قائم کیا گیا ہے،جہاں نوجوان ڈاکٹرز اور طبی طلبہ زخمیوں اور کمزور مظاہرین کو طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔مظاہرین کا موقف ہے کہ یہ صرف ایک تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ نوجوان نسل کے مستقبل کا سوال ہے۔ان کے مطابق ملک کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے مگر انہیں درپیش مسائل کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا جا رہا۔دوسری جانب حکومت نے تعلیمی اصلاحات کا عندیہ دیا ہے تاہم احتجاجی مظاہرین اس وقت تک پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔دہلی کی سڑکوں پر جاری یہ احتجاج اب محض ایک دھرنا نہیں بلکہ نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے اضطراب،غصے اور تبدیلی کی خواہش کی علامت بنتا جا رہا ہے،جس کے اثرات آنے والے دنوں میں ملکی سیاست اور پالیسی سازی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز