غزہ(ایگزو نیوز ڈیسک)غزہ کے مظلوم عوام کے لیے امداد لے جانے والا گلوبل صمود فلوٹیلا اسرائیلی جارحیت کی زد میں آگیا۔ اسرائیلی فوج نے نہ صرف بحری جہازوں کو گھیر لیا بلکہ ایک جہاز پر چڑھائی کرتے ہوئے تمام ارکان کو حراست میں لے لیا۔فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام واضح طور پر انسانی ہمدردی کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے جبکہ کارکنوں کا موقف ہے کہ ان کا مقصد محاصرہ توڑ کر غزہ کے لیے ایک انسانی راہداری قائم کرنا تھا۔
ایگزو نیوز کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ کر کے انسانی ہمدردی کی ایک بڑی کاوش کو روک دیا۔ فلوٹیلا کے منتظمین کے مطابق اسرائیلی اہلکار ایک جہاز میں زبردستی داخل ہوئے اور جہاز پر موجود تمام ارکان کو حراست میں لے لیا۔اب تک تکی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فورسز نے 500 کے قریب امدادی کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے جن میں سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت چھ پاکستانی بھی شامل ہیں،فلوٹیلا پر موجود افراد نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے ’الما‘ اور ’سائرس‘ نامی کشتیوں کو گھیر لیا ہے جبکہ دیگر جہازوں کو بھی گھیراو کی دھمکی دی گئی ہے۔اسرائیلی بحریہ کی جانب سے جاری ویڈیو میں واضح طور پر دکھایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے فلوٹیلا کو ریڈیو پیغام کے ذریعے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ امداد پہنچانا چاہتے ہیں تو اپنا رخ اشدود کی بندرگاہ کی طرف موڑ لیں،جہاں سے امداد کو غزہ منتقل کیا جائے گا۔اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ فوج نے فلوٹیلا تک رسائی حاصل کر لی ہے اور اسے راستہ تبدیل کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزارت کے مطابق فلوٹیلا “وار زون” میں داخل ہو رہا ہے اور اسے کسی بھی صورت آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
فلوٹیلا کی سٹیئرنگ کمیٹی کے رکن تیاغو اویلا نے اپنے جہاز سے بھیجے گئے آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ہم اپنے مشن کے فیصلہ کن مرحلے پر ہیں،اسرائیلی فوجی ناکہ بندی کے قریب پہنچ رہے ہیں،درجنوں اسرائیلی بحری جہاز یہاں موجود ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ آج رات ہمارے اس انسانی مشن کو غیر قانونی طور پر روکا جائے گا،حالانکہ ہمارا مقصد محاصرہ توڑنا اور انسانی راہداری قائم کرنا ہے۔فلوٹیلا پر موجود ایک عرب صحافی نے بتایا کہ کم از کم 12 اسرائیلی جہاز فلوٹیلا سے تقریباً چار بحری میل کے فاصلے پر موجود ہیں۔یہ واضح نہیں ہے کہ وہ کس رفتار سے حرکت کر رہے ہیں یا صرف راستہ روکنے کے لیے کھڑے ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق فلوٹیلا اس وقت غزہ سے 118 بحری میل کی دوری پر تھا،جو اس مقام سے صرف 8 میل دور ہے جہاں جون میں اسرائیلی فوج نے امدادی جہاز ’میڈلین‘ پر قبضہ کیا تھا۔ ترک خبر رساں ادارے کے مطابق ایک کارکن زین العابدین اوزکان نے بتایا کہ رات بھر فلوٹیلا کے اوپر اسرائیلی ڈرونز کی پروازیں جاری رہیں جبکہ صبح تقریباً 5 بجے ’الما‘ نامی مرکزی کشتی کے جی پی ایس اور انٹرنیٹ سسٹم پر سائبر حملہ کیا گیا جس کے بعد رابطہ منقطع ہو گیا۔یہ حملہ ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا انسانی بنیادوں پر غزہ کو امداد پہنچانے والی عالمی کوششیں اسرائیلی فوجی طاقت کے سامنے بار بار سبوتاڑ کی جاتی رہیں گی؟؟۔