واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی کانگریس میں انسانی حقوق کمیشن سے صدر ٹرمپ سے ایسا مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت اور مقتدر حلقوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکی کانگریس کی کمیٹی میں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر سماعت ہوئی جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھے،کیونکہ گواہوں نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر زیادتیوں کی نشاندہی کی ہے۔کمیٹی کے سامنے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو تقریباً 200 مقدمات میں غلط طور پر ملوث کیا گیا،جو تمام کے تمام سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے،پاکستانی شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق محدود کر دیے گئے ہیں،میڈیا کو خاموش کرا دیا گیا ہے اور جو لوگ بولنے کی جرات کرتے ہیں انہیں ملازمت سے نکال دیا جاتا ہے یا ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ عدلیہ کو بھی آزادانہ اور منصفانہ فیصلے کرنے سے روکا جا رہا ہے اور اس کے لیے دباؤ اور پارلیمانی ترامیم کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ری پبلکن کی جانب سے رکن کانگریس اور ٹام لینٹوس ہیومن رائٹس کمیشن کے شریک چیئرمین کرسٹوفر ایچ اسمتھ نے کہا کہ یہ غیرمعمولی حد تک معمولی صورتحال ہے،صرف کانگریس ہی نہیں بلکہ انتظامیہ کو بھی ہوشیار ہو کر نوٹس لینا چاہیے،امریکا اس وقت خاموش نہیں رہ سکتا جب سویلین حکمرانی پر عسکری اثر و رسوخ غالب آ رہا ہو۔اس موقع پر افغانستان امپیکٹ نیٹ ورک کے بانی صادق امینی نے پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں ’دوغلے پن‘ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، عمران خان طالبان کا امن کا پیغام واشنگٹن لے کر گئے،جو دراصل ایک ’چالاک فریب‘ تھا،جسے ان کے روسی ہم منصبوں نے تیار کیا تھا،انہوں نے صدر ٹرمپ کو قائل کیا کہ وہ ان دہشت گردوں کے ساتھ امن معاہدہ کریں،جس کا نتیجہ صرف طالبان کو مزید طاقت دینے کی صورت میں نکلا،اس امن عمل کی ناکامی ناگزیر تھی،جس کے بعد امریکا کا انخلا ہوا اور کابل میں’ایک جنس پر مبنی امتیازی نظام‘ قائم ہوا،عمران خان نے بطور وزیرِ اعظم طالبان کے لیے ترجمان کا کردار ادا کیا اور دنیا بھر میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ ایک مقامی گروہ ہیں جو افغان عوام کے مفاد میں کام کر رہا ہے،پاکستانی رہنما، خواہ وہ فوجی ہوں یا سویلین،طالبان کے خطرے کی شکایت کرتے ہیں مگر آج بھی ان کا مؤقف ہے کہ طالبان افغانستان کے لیے اچھے ہیں لیکن پاکستان کے لیے برے۔
پاکستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں،امریکہ سے ایسی خبر آ گئی کہ حکومت کے ہوش اڑ جائیں
21