واشنگٹن(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس سے متعلق جاری بحث کے تناظر میں ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر بحری گزرگاہ پر کسی قسم کی فیس یا اضافی چارجز کی وصولی ثابت ہوئی تو امریکا فوری طور پر جاری مذاکرات ختم کر دے گا۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں واضح کیا کہ ایران کی جانب سے امریکا کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے نہ کوئی ٹول ٹیکس لیا جا رہا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی اضافی انشورنس یا سروس فیس عائد کی گئی ہے۔صدر ٹرمپ نے میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان خبروں میں حقیقت نہیں اور اگر یہ معلومات غلط ثابت ہوئیں تو اس کے سنگین سفارتی نتائج برآمد ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے ایران کو کسی بھی شکل میں کوئی مالی ادائیگی نہیں کی اور نہ ہی ایرانی فنڈز سے کوئی رقم جاری کی گئی ہے۔امریکی صدر کے مطابق امریکا اپنے کنٹرول میں موجود ایرانی فنڈز میں سے محدود رقم استعمال کرتے ہوئے امریکی کسانوں اور مویشی پال افراد سے زرعی اجناس،جن میں مکئی،گندم اور سویابین شامل ہیں، خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ ایران کی غذائی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اس وقت خوراک کی شدید ضرورت ہے اور یہ خریداری مکمل طور پر امریکی زرعی مصنوعات کے ذریعے کی جائے گی۔
دوسری جانب ایران سے متعلق ایک مختلف موقف بھی سامنے آیا ہے۔تہران کی یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز کے پروفیسر مصطفیٰ خوش چشم نے ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران طویل مدت میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر سروس فیس عائد کرنے کے منصوبے سے دستبردار ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا،مفاہمتی یادداشت کے تحت ابتدائی 60 روز تک کسی قسم کی فیس وصول نہیں کی جائے گی تاہم اس کے بعد اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔پروفیسر خوش چشم نے کہا کہ ایران کے اندر بھی اس فیصلے پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں اور کچھ حلقے 60 روز تک فیس نہ لینے کے فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں۔ ان کے بقول اس پالیسی کا بنیادی مقصد محض مالی فائدہ نہیں بلکہ خطے میں نئے ضابطے اور سٹرٹیجک فریم ورک متعارف کرانا ہے تاحال ایرانی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ اور حتمی موقف سامنے نہیں آیا،جس کے باعث صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے اور خطے میں سفارتی کشیدگی کے امکانات بدستور موجود ہیں۔