نئی دہلی(ایگزو نیوز ڈیسک)آبنائے ہرمز میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک سطح تک پہنچ گئی ہے،جہاں بھارتی میڈیا اور حکومتی ذرائع کی جانب سے تیل بردار بحری جہازوں پر فائرنگ کے دعوے سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔واقعے کے بعد نئی دہلی نے شدید احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے بحری جہازوں اور عملے کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بھارتی میڈیا اور سرکاری ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ دو بھارتی پرچم بردار تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا،جس کے بعد دونوں جہاز واپس پلٹ گئے۔ واقعے کے بعد خطے میں بحری صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے اور عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ دونوں جہاز خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے گزر رہے تھے کہ اس دوران انہیں روکا گیا،جس پر نئی دہلی میں تعینات ایرانی سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کر کے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ بھارتی حکام نے جہازوں اور عملے کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جہازوں کو روکنے کے دوران فائرنگ کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، تاہم کسی جانی یا بڑے مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ بین الاقوامی ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق دونوں جہاز شمالی حصے میں پہنچنے کے بعد واپس لوٹ گئے،جن میں ایک سپر ٹینکر بھی شامل تھا جس پر لاکھوں بیرل تیل لدا ہوا تھا۔ایرانی ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کے لیے سخت ضوابط نافذ کیے گئے ہیں اور اس اہم گزرگاہ کا کنٹرول ایرانی نگرانی میں ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ جب تک امریکا کی جانب سے بحری پابندیاں ختم نہیں کی جاتیں،صورتحال اسی طرح برقرار رہے گی۔رپورٹس کے مطابق ایران نے پہلے اس راستے کو تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا تاہم بعد ازاں امریکی ناکہ بندی کے ردعمل میں دوبارہ سخت اقدامات کیے گئے۔اس صورتحال کے باعث کئی تجارتی جہاز راستہ تبدیل کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور خطے میں بحری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔
دوسری جانب امریکا نے بھی ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جس سے خلیج میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اب تک درجنوں جہازوں کو واپس جانے پر مجبور کیا جا چکا ہے، جبکہ ایران کا موقف ہے کہ اس کی سمندری حدود پر مکمل کنٹرول برقرار رکھا جائے گا۔حالیہ پیش رفت نے خطے میں پہلے سے جاری کشیدہ صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، اور ماہرین کے مطابق اگر دونوں جانب سے لچک کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو بحری تجارت اور عالمی توانائی ترسیل پر بڑے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔