ہانگ کانگ(ایگزو نیوز ڈیسک)گذشتہ روز ہانگ کانگ کے شمالی علاقے تائی پو میں واقع ایک بڑے اور گنجان آباد رہائشی کمپلیکس میں لگنے والی بھیانک آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 55 تک پہنچ گئی ہے،رات گئے اچانک بھڑکنے والی آگ نے چند ہی منٹوں میں بلاکس کے درجنوں فلورز کو گھیر لیا، اور عمارت کے اندر گھپ اندھیرے میں دھواں بھر جانے کے باعث بیشتر رہائشی باہر تک نہیں پہنچ سکے،خوفناک آگ سے ہلاکتوں کی تعداد 55 تک جا پہنچی ہے جبکہ سینکڑوں افراد ابھی بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لئے ریسکیو آپریشن جاری ہے،افسوسناک سانحہ کے بعد شہر میں ہر آنکھ نم اور گھروں میں صف ماتم کی سی کیفیت ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ہانگ کانگ کے شمالی علاقہ تائی پو میں واقع کثیر المنزلہ بلڈنگ کے رہائشی بلاکس کے ایک بڑے کمپلیکس میں رات گئے بھڑکنے والی آتشزدگی نے بدترین تباہی مچا دی،حکام کے مطابق اب تک ہلاکتوں کی تعداد 55 تک پہنچ گئی جبکہ سینکڑوں افراد لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ریسکیو حکام کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں 51 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوئے اور بعد ازاں ہسپتال میں چار افراد دوران علاج دم توڑ گئے۔ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پوری رات آپریشن کر رہی تھیں اور متعدد بلاکس میں آگ پر قابو پا لیا گیا جبکہ بعض بلاکس میں شعلے ابھی تک جل رہےہیں۔زخمیوں میں متعدد ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کی حالت انتہائی نازک ہے جبکہ سینکڑوں افراد کو دھوئیں سے متاثر ہونے کے باعث ہسپتال منتقل کیا گیا۔فائر سروس ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ کمپلیکس آٹھ بلاکس پر مشتمل ہے جن میں سے چار میں آگ کو کافی حد تک قابو کر لیا گیا ہے تا ہم باقی بلاکس میں شعلوں کے خلاف کارروائیاں تا حال جاری ہیں،ایک بلاک مکمل طور پر محفوظ رہا مگر باقی عمارتیں اندرونی طور پر شدید متاثر ہو چکی ہیں۔ریسکیو ٹیمیں پوری رات عمارت کے اندر سرچ آپریشن کرتی رہیں۔آگ کی شدت، مسلسل دھواں اور درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ امدادی سرگرمیوں میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا رہا۔
حکام کے مطابق کئی ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب لوگ باہر نکلنے کے لیے عمارت کی سیڑھیوں میں پھنس گئے،جہاں دھواں زیادہ بھر چکا تھا۔ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ عمارت کے بیرونی حصے میں نصب بانس کی سکیفولڈنگ نے آگ کے پھیلاو کو غیر معمولی رفتار دی جبکہ کچھ حفاظتی راستوں کے بلاک ہونے کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں۔پولیس نے کئی گھنٹوں تک رہائشیوں سے بیانات ریکارڈ کیے اور تعمیراتی کمپنی کے کچھ عملے کو بھی معاون تفتیش کے لیے حراست میں لیا ہے۔واقعے کے بعد ہانگ کانگ کی انتظامیہ نے اسے ” تاریخ کا بدترین سانحہ“ قرار دیا ہے۔حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی مراکز قائم کر دیے ہیں جبکہ نفسیاتی معاونت ٹیمیں بھی جائے حادثہ پر پہنچا دی گئی ہیں۔ریسکیو حکام نے خبردار کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھنے کا خدشہ موجود ہے کیونکہ ابھی بھی کئی افراد لاپتہ ہیں اور ملبے کے مختلف حصوں میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ہانگ کانگ کے رہائشی اس حادثے کے بعد شدید صدمے میں ہیں جبکہ پورے ملک میں سوگ کی فضاء ہے۔عمارت کے گرد قائم عارضی شیلٹرز لوگوں سے بھر چکے ہیں جہاں بے گھر ہونے والے شہری رات گزار رہے ہیں۔تحقیقات مکمل ہونے تک حکام نے علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے تا کہ کسی بھی طرح کے شواہد ضائع نہ ہوں۔تفتیشی ٹیمیں آگ کے ممکنہ اسباب،حفاظتی غفلت اور تعمیراتی ناکامیوں سے متعلق تمام پہلووں کا جائزہ لے رہی ہیں۔