کراچی(ایگزو نیوز ڈیسک)کراچی پورٹ پر جاری بڑے پیمانے کے ڈریجنگ آپریشن نے ملکی بحری تجارت میں ایک نئے باب کا آغاز کر دیا ہے،جہاں پہلی بار بیک وقت چار ڈریجرز کی سرگرمیوں نے بندرگاہ کی استعداد بڑھانے کی راہ ہموار کر دی ہے۔اس پیش رفت کے نتیجے میں نہ صرف بڑے بحری جہازوں کی آمد ممکن ہو سکے گی بلکہ کراچی کو خطے کے ایک اہم ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ حب کے طور پر ابھرنے کا موقع بھی مل رہا ہے۔حکام کے مطابق بندرگاہ کی گہرائی میں اضافہ اور جدید سہولیات کی فراہمی سے بین الاقوامی تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے،جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق کراچی پورٹ ٹرسٹ میں کاروباری شراکت داروں کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے جہاں بندرگاہ کی استعداد بڑھانے اور بڑے بحری جہازوں کی آمد کو ممکن بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر ڈریجنگ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔پورٹ انتظامیہ کے مطابق نیشنل ڈریجنگ اینڈ میرین سروسز نے کراچی پورٹ پر پہلا جامع ڈریجنگ آپریشن باضابطہ طور پر شروع کر دیا ہے،جس کے تحت پہلی بار چار بڑے ڈریجرز بیک وقت مسلسل چار ماہ تک کھدائی کے عمل میں حصہ لیں گے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بندرگاہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور دیوقامت بحری جہازوں کی ہینڈلنگ کے قابل بنانے کے لیے ساوتھ ایشیا پاکستان ٹرمینل سمیت اپر اور لوئر ہاربر کی برتھوں کو گہرا کیا جا رہا ہے۔اس آپریشن میں مختلف اقسام کے جدید ڈریجرز شامل ہیں جن میں روٹر ڈرم،ایتھینا،ابول اور انڈس ڈولفن نمایاں ہیں،جو پہلی بار ایک ساتھ مربوط انداز میں کام کر رہے ہیں۔
حکام کے مطابق اس منصوبے کی تکمیل کے بعد کراچی پورٹ پر پینامیکس سائز کے بڑے جہازوں کی آمدورفت ممکن ہو جائے گی، جس سے نہ صرف بندرگاہ کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوگا بلکہ ملکی تجارت کو بھی فروغ ملے گا۔مزید برآں اس پیش رفت کو کراچی کو علاقائی سطح پر ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ حب بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق بندرگاہ کی گہرائی میں اضافہ اور جدید سہولیات کی فراہمی سے بین الاقوامی تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور پاکستان کی معیشت کو طویل المدتی فوائد حاصل ہوں گے۔