Home » کسی عالم دین کے لیے اس سے بڑا ”گارڈ آف آنر “کیا ہو سکتا ہے۔۔۔۔؟؟؟

کسی عالم دین کے لیے اس سے بڑا ”گارڈ آف آنر “کیا ہو سکتا ہے۔۔۔۔؟؟؟

تحریر:امجد عثمانی

by ahmedportugal
19 views
A+A-
Reset

جامعہ اشرفیہ لاہور کے سربراہ شیخ الحدیث حضرت مولانا فضل الرحیم اشرفی بھی قال قال رسول اللہﷺ کا نغمہ گنگناتے اللہ کریم کے حضور پیش ہوگئے۔۔۔ امام ابن حنبلؒ نے فرمایا تھا کہ ہمارے جنازے ہماری گواہی دیں گے ۔۔۔۔ چشم فلک نے دیکھا کہ مولاناا فضل الرحیم اشرفی کا جنازہ بھی ان کا گواہ بن گیا ۔۔۔۔ یہ لاہور کی تاریخ کے بڑے جنازوں میں سے ایک جنازہ تھا ۔۔۔۔ جبکہ جامعہ اشرفیہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ ۔۔۔۔ میں نے جامعہ اشرفیہ کو دو دہائی پہلے اس طرح کھچا کھچ بھرا تب دیکھا جب امام کعبہ شیخ عبد الرحمان السدیس اس دینی درسگاہ تشریف لائے اور ایک نماز کی امامت کی تھی ۔۔۔ ۔مولانا فضل الرحیم اشرفی کے جنازے کا اجتماع اس سے بھی کئی گنا بڑھا تھا ۔۔۔۔ تب جامعہ اشرفیہ کی جامع مسجد حسن اتنی بڑی نہیں تھی ۔۔ جبکہ اب توسیع کے بعد اس میں بیسمنٹ اور چار منزلیں ہیں جو جنازے کے وقت بھری ہوئی تھیں ۔۔۔۔ مسجد کے اطراف بھی تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی ۔۔۔۔ یہی نہیں کینال روڈ تک جنازے کی صفیں تھیں ۔۔۔۔ اس دن نا صرف دین دار بلکہ دنیا بھی آنکھ اشکبار تھے ۔۔۔ میں نے جامعہ اشرفیہ کے بام و درکو بھی سوگواردیکھا ۔۔۔۔ عجب منظر تھا کہ لوگ جنازے کے لیے کھنچے چلے آ رہے تھے اور صف در صف جمع ہوتے جا رہے تھے ۔۔۔ نماز ظہر کا وقت ہونے دو بجے تھا لیکن ظہر کی نماز شروع ہوتے اڑھائی بج گئے ۔۔۔ اس دن چونکہ مولانا فضل الرحیم اشرفی صاحب کی زیر صدارت تکمیل بخاری کی تقریب پہلے سے طے تھی ۔۔۔ اس لیے مولانا یوسف خان نے نماز جنازہ سے پہلے بخاری شریف کا آخری سبق پڑھایا ۔۔۔ جنازے سے پہلے یہ لمحہ بڑا روح پرور تھا کہ جب جنازے کے شرکاء نے بھی مولانا یوسف خان کے پیچھے بخاری شریف کی حدیث تین بار دیرائی ۔۔۔۔ یہ ایک شیخ الحدیث کو حدیث شریف کا الوداعی تحفہ بھی تھا ۔۔۔۔۔ کسی عالم دین کے لیے اس سے بڑا ” گارڈ آف آنر “کیا ہو سکتا ہے ۔۔۔۔؟؟؟؟

مولانا فضل الرحیم اشرفی سے ایک دو ملاقاتیں ہیں ۔۔۔۔ کیا ہی نرم گفتار اور دعا گو آدمی تھے ۔۔۔۔ بہت پہلے پہلی مولانا مجیب الرحمان  نے ملاقات کرائی اور میرا بہت اچھا تعارف بھی کرایا ۔۔۔۔ پھر ایک دفعہ مدینہ منورہ میں مقیم اسلامی سکالر جناب ڈاکٹر احمد علی سراج کے ساتھ ان کی دست بوسی کے لیے حاضر ہوا ۔۔۔۔ دونوں مرتبہ ان کو دعائیں دیتے ہی  پایا ۔۔۔۔ مکہ مکرمہ سے انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے امیر جناب ڈاکٹر سعید احمد عنایت اللہ کبھی سال ایک دو بار لاہور آیا کرتے تو ان کا قیام جامعہ اشرفیہ ہوتا ۔۔ وہ بھلا بھیجتے ۔۔۔۔ خوب مجلس ہوتی ۔۔۔۔ اب وہ بھی علیل ہیں اور پاکستان کم ہی آتے ہیں ۔۔۔ اسی طرح یہاں کبھی مکہ مکرمہ سے مولانا عبدالحفیظ مکی ۔۔۔ مدینہ منورہ سے مسجد نبوی کے مدرس قاری بشیر احمد صدیقؒ اور لندن سے علامہ ڈاکٹر خالد محمودؒ  بھی تشریف لاتے۔۔۔ پھر ایک کے بعد ایک تینوں جنت مکین ہو گئے اور رونقیں بھی ساتھ لے گئے ۔۔۔۔ اب گاہے جامعہ اشرفیہ حاضری ہوتی اور جناب حافظ اسعد عبید دیدہ و دل فرش راہ کر دیتے ہیں ۔۔۔۔ اسی طرح مفتی احمد علی صاحب بھی میرے مہربان ہیں ۔۔۔۔ بہر حال مولانا فضل الرحیم اشرفی نے مولانا عبدالرحمان اشرفی کی جانشینی کا حق ادا کردیا ۔۔۔ انہوں  نے جامعہ اشرفیہ کے علمی حسن کو چار چاند لگا دیے اور سرخ رو ہو کر اپنے بڑوں کے پاس گئے ۔۔۔۔۔ وطن عزیز کی اس معتبر اور معتدل اسلامی دانش گاہ کی ذمہ داری اب مولانا قاری ارشد عبید ۔۔۔۔ حافظ اسعد عبید اور مولانا زبیر حسن کے کندھوں پر آن پڑی ہے ۔۔۔ تینوں بہترین رجال کار ہیں ۔۔۔ امید ہے وہ بھی مولانا فضل الرحیم اشرفی کی طرح اس گلستان کی آبیاری میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ۔۔۔۔۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز