اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ایک اعلیٰ سطح وفد نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی اور انہیں قومی مشاورتی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔ وفد میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سیکریٹری جنرل اسد قیصر اور تیمور سلیم جھگڑا کے ساتھ ساتھ شہرام خان ترکئی، حسین احمد یوسفزئی اور خالد یوسف چودھری بھی شامل تھے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ملاقات کے دوران ملک میں موجودہ سیاسی صورتحال، آئین کی بالادستی اور جمہوری اقدار کے تحفظ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب سے اس امر پر زور دیا گیا کہ آئین کی پاسداری اور قانون کی حکمرانی ہی ملک کو درپیش سیاسی اور معاشی چیلنجز کا پائیدار حل فراہم کر سکتی ہے۔رہنماوں نے جمہوریت کے استحکام، قومی یکجہتی اور سیاسی ہم آہنگی کے فروغ جیسے اہم امور پر بھی مفصل گفتگو کی۔ ملاقات میں یہ بھی اتفاق کیا گیا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود قومی مفاد اور آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے مشاورت اور بات چیت کا عمل جاری رہنا چاہیے تاکہ مختلف سیاسی قوتیں ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر آئیں اور ملک کے اہم مسائل پر اتفاق رائے پیدا ہو۔ذرائع کے مطابق یہ ملاقات ملکی سیاسی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، اور قومی مشاورتی کانفرنس کے ذریعے سیاسی قوتوں کو ایک ساتھ لانے کی کوششوں کو بھی سراہا گیا۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات آئندہ سیاسی بحرانوں کے حل، قومی یکجہتی اور جمہوری استحکام کے لیے ناگزیر ہیں، اور یہ ملک میں آئینی عمل اور سیاسی اعتماد کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔اس ملاقات کو ملکی سیاست میں شفافیت اور تعاون کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے آئندہ قومی فیصلوں میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی شرکت اور سیاسی ہم آہنگی کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
قومی مشاورتی کانفرنس کے لیے اہم پیش رفت،مولانا فضل الرحمان سے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات
9