Home » جسٹس طارق جہانگیری کی ڈگری تنازعہ،ہائیکورٹ نے بڑا فیصلہ دے دیا،وفاق و صدر مملکت کو نوٹس جاری،کیس قابلِ سماعت قرار

جسٹس طارق جہانگیری کی ڈگری تنازعہ،ہائیکورٹ نے بڑا فیصلہ دے دیا،وفاق و صدر مملکت کو نوٹس جاری،کیس قابلِ سماعت قرار

by ahmedportugal
29 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کیخلاف جعلی ڈگری کیس قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے متعدد فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ،جسٹس طارق محمود جہانگیری سمیت تمام فریقین کو 3 دن میں جواب جمع کرانے کا حکم۔
ایگزو نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف مبینہ جعلی ڈگری کیس کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو نوٹس جاری کر دیا۔ عدالت نے وفاق کو وزارتِ قانون کے ذریعے اور صدرِ مملکت کو پرنسپل سیکرٹری کے ذریعے نوٹس جاری کیے، جب کہ سیکرٹری جوڈیشل کمیشن، پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرر، ایچ ای سی اور کراچی یونیورسٹی کو بھی نوٹس ارسال کر دیے گئے۔عدالت نے جج کی ڈگری کے تنازعے پر تین دن میں جواب طلب کر لیا۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان نے کی۔ عدالتی معاون بیرسٹر ظفر اللہ عدالت میں موجود تھے، جبکہ درخواست میاں داود ایڈووکیٹ نے دائر کر رکھی ہے۔سماعت کے دوران ایچ ای سی اور کراچی یونیورسٹی نے اپنے تحریری جوابات جمع کرائے۔عدالت کے حکم پر وکلا کو بیٹھنے کی ہدایت کی گئی اور درخواست گزار نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دیے۔درخواست گزار میاں داود ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 193 کے تحت ہائیکورٹ کا جج بننے کے لیے وکیل ہونا لازمی ہے،کراچی یونیورسٹی نے اپنے لیٹر میں واضح طور پر کہا کہ جسٹس طارق جہانگیری کی ڈگری جعلی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک اسد علی کیس میں یہ فیصلہ موجود ہے کہ ہائیکورٹ کا جج، اسی ہائیکورٹ میں کو وارنٹو پٹیشن کے ذریعے چیلنج ہو سکتا ہے،ہم پوچھ رہے ہیں کہ کیا وہ وکیل یا جج  بننے کے اہل تھے؟وہ خود آ کر ڈگری کی حقیقت واضح کر دیں۔

اسلام آباد بار کے وکیل احمد حسن نے موقف اپنایا کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں،اگر اعتراض ہے تو بار کونسل جائیں۔انہوں نے کہا کہ جج بننے کے لیے 10 سالہ وکالت کا فیصلہ بار کونسل کرتی ہے اور ڈگری کی درستگی بھی انہی کا اختیار ہے،یہ معاملہ عدالت کا نہیں۔اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار نے بھی کیس کو قابل سماعت قرار دینے کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کا ہے،عدالت اپنے ہی جج کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی،ورنہ نظام عدل متاثر ہو گا۔بار کونسل کے ممبر راجہ علیم عباسی نے کہا کہ آرٹیکل 209 موجود ہونے کے باوجود ایسا ٹرینڈ عدلیہ کی آزادی کے لیے خطر ناک ہو گا،جسٹس جہانگیری کے پاس تین لائسنس موجود ہیں،لوئر کورٹ،ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ اور ڈگری کے مسائل کا فیصلہ بار کونسل کا اختیار ہے۔

عدالتی معاون بیرسٹر ظفر اللہ نے اپنے دلائل میں بھارتی عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ میں صرف قانونی نکتے رکھوں گا۔انہوں نے کو وارنٹو رٹ کے قابل سماعت ہونے کی حمایت کر دی۔ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کراچی یونیورسٹی اور ایچ ای سی کے جوابات پڑھ کر سنائے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا یونیورسٹی کے مطابق طارق محمود اسلامیہ کالج کے طالب علم ہی نہیں رہے؟ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ یونیورسٹی نے انہیں ” اجنبی “ قرار دیا ہے۔تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پر ہو گی۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز