یورپ بھر میں جاری شدید گرمی کی لہر نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، خاص طور پر فرانس میں درجہ حرارت کے غیر معمولی اضافے کے باعث صورتحال تشویشناک ہو چکی ہے۔ منگل کو پیرس میں شدید گرمی کے پیش نظر ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، جب کہ ایفل ٹاور کے بلند ترین حصے کو عوام کے لیے عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیرس میں ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے ٹریفک پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں، اور اوزون کی سطح بڑھنے کے سبب صرف کم آلودگی خارج کرنے والی گاڑیوں کو مخصوص اوقات میں سڑک پر آنے کی اجازت دی گئی ہے۔ بعض علاقوں میں رفتار کی حد بھی کم کر کے 20 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی گئی ہے۔
فرانسیسی محکمہ موسمیات میٹیو فرانس کے مطابق ملک بھر کے 16 علاقے شدید گرمی سے متاثر ہیں، اور 68 دیگر علاقے انتہائی درجہ حرارت کے لحاظ سے دوسرے درجے پر آ چکے ہیں۔ منگل کے روز درجہ حرارت 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ رات کے وقت بھی درجہ حرارت 20 سے 24 ڈگری کے درمیان رہے گا۔
حکومت نے شدید گرمی کے باعث تقریباً 1350 اسکولوں کو مکمل یا جزوی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ کلاس رومز میں مناسب وینٹیلیشن نہ ہونے کے سبب بچوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ شہریوں، خصوصاً بزرگوں، بچوں اور مریضوں کو خاص احتیاط برتنے، پانی زیادہ پینے اور دھوپ سے بچنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
پرتگال، سپین، اٹلی، مونٹی نیگرو اور کروشیا جیسے دیگر یورپی ممالک بھی اسی ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہیں۔ پرتگال میں اگرچہ کچھ علاقوں کا الرٹ اورنج میں تبدیل کر دیا گیا ہے، مگر وسطی شہروں میں گرمی بدستور برقرار ہے۔ لزبن میں 34 جب کہ جنوبی سپین میں درجہ حرارت 46 ڈگری تک ریکارڈ کیا گیا، جو جون کے لیے نیا ریکارڈ ہے۔
اٹلی کے 18 شہروں، جن میں روم، میلان، ویرونا اور پالرمو شامل ہیں، میں بھی ریڈ الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔ شمالی اٹلی کے علاقے پیڈمونٹ میں شدید بارشوں کے بعد آنے والے اچانک سیلاب نے ایک 70 سالہ شخص کی جان بھی لے لی ہے۔
یورپ میں اس وقت گرمیوں کی پہلی بڑی ہیٹ ویو جاری ہے، اور موسمیاتی ماہرین نے اس میں مزید شدت آنے کی پیش گوئی کی ہے۔