Home » حیا، سخاوت اور صبر کا درخشاں مینار ۔۔۔۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی لازوال عظمت

حیا، سخاوت اور صبر کا درخشاں مینار ۔۔۔۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی لازوال عظمت

تحریر: خالد شہزاد فاروقی

by ahmedportugal
15 views
A+A-
Reset

تاریخِ انسانیت کے افق پر جب نورِ ہدایت کے ستارے جگمگاتے ہیں تو کچھ ہستیاں ایسی بھی ہیں جن کی روشنی زمان و مکان کی قیود سے ماورا ہو کر قیامت تک دلوں کو منور کرتی رہتی ہے۔۔۔انہی مقدس ہستیوں میں وہ عظیم المرتبت،حیا و سخاوت کے پیکر،خلیفہ ثالث،دامادِ رسولﷺ،امیرالمومنین سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا اسمِ گرامی ایسا درخشاں ہے کہ جس کا ذکر آتے ہی دلوں میں عقیدت کے چراغ جل اٹھتے ہیں اور آنکھیں بے اختیار اشکبار ہو جاتی ہیں ۔۔۔۔ وہ عثمانؓ جنہیں رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی دو صاحبزادیوں کا رشتہ عطا فرمایا اور اس نسبت نے انہیں ”ذوالنورین“ کے عظیم لقب سے سرفراز کیا ۔۔۔ یہ وہ اعزاز ہے جو تاریخِ انسانی میں کسی اور کے حصے میں نہ آیا ۔۔۔۔ ان کی ذاتِ اقدس وہ آئینہ ہے جس میں حیا کا جمال،سخاوت کا کمال اور ایمان کا جلال ایک ساتھ جلوہ گر نظر آتا ہے ۔۔۔ حضرت عثمان غنیؓ کی حیاتِ مبارکہ ایک ایسے دریا کی مانند ہے جس کی روانی ہمیشہ فیض بخش رہی ۔۔۔۔ وہ جب اسلام لائے تو مال و دولت کی فراوانی ان کے قدموں میں تھی مگر ان کے دل میں دنیا کی محبت نہیں بلکہ آخرت کی طلب تھی ۔۔۔ انہوں نے اپنے مال کو دین حق کی سربلندی کے لیے اس طرح لٹایا کہ سخاوت خود ان کے دروازے کی محتاج ہو گئی ۔۔۔۔ غزوہ تبوک کے موقع پر جب اسلامی لشکر وسائل کی کمی کا شکار تھا تو حضرت عثمانؓ نے وہ انفاق کیا کہ جس پر نبی کریم ﷺ نے خوش ہو کر فرمایا کہ ”آج کے بعد عثمانؓ جو کرے،اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا“۔۔۔۔ یہ وہ مقام ہے جہاں الفاظ بھی عاجز نظر آتے ہیں اور تاریخ بھی خاموش ہو جاتی ہے۔۔۔

ان کی حیا ایسی تھی کہ فرشتے بھی ان سے حیا کرتے تھے ۔۔۔۔ رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا کہ ”میں اس شخص سے کیوں نہ حیا کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں“۔ یہ وہ مقامِ عظمت ہے جو انسانی تصور سے ماورا ہے ۔۔۔۔ ان کی خاموش طبیعت، نرم مزاجی اور دلوں کو جوڑنے والی فطرت نے انہیں ایک منفرد قائد بنایا،جو شور سے نہیں بلکہ سکون سے دلوں پر حکمرانی کرتا تھا۔۔۔خلافت کا زمانہ ان کے لیے آزمائش بھی تھا اور قربانی کا استعارہ بھی۔۔۔۔وہ دور جب فتنوں کی آندھیاں اٹھ رہی تھیں مگر حضرت عثمانؓ نے صبر و تحمل اور حلم و برداشت کا وہ باب قائم کیا جو آج بھی اہل ایمان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔۔۔ان کی ذات اختلافات کے باوجود امت کو جوڑنے کی کوشش کرتی رہی اور وہ ہر حال میں امت کی خیر خواہی کے لیے کوشاں رہے۔۔۔ان کے گھر پر محاصرہ کیا گیا مگر انہوں نے خون بہانے سے بہتر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا، تاکہ امت کا اتحاد برقرار رہے ۔۔۔۔ ان کا یہ صبر تاریخ کے صفحات پر ایک ایسی روشن تحریر ہے جو قیامت تک ظلم کے مقابلے میں حلم کی عظمت کو بیان کرتی رہے گی۔۔۔

حضرت عثمان غنیؓ کی شخصیت صرف ایک حکمران کی نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کی ہے جس نے اقتدار کو عبادت بنا دیا،دولت کو خدمت میں ڈھال دیا اور زندگی کو رضائے الٰہی کے تابع کر دیا۔۔۔ ان کی نرم دلی،انکساری اور اللہ سے گہرا تعلق ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اصل عظمت طاقت میں نہیں بلکہ کردار کی بلندی میں ہے۔۔۔۔آج جب ہم ان کا ذکر کرتے ہیں تو دل بے اختیار جھک جاتا ہے،زبان پر درود و سلام آ جاتا ہے اور آنکھیں عقیدت کے آنسووں سے بھیگ جاتی ہیں۔۔۔۔ وہ ایک ایسا چراغ ہیں جو صرف اپنے دور کو نہیں بلکہ آنے والے تمام زمانوں کو روشنی عطا کرتا رہے گا۔۔۔۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے،ان کی سیرت کو سمجھنے اور ان کی محبت کو اپنے دلوں میں بسائے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز