Home » سخت شرائط نے مذاکرات سبوتاژ کر دیے،ایرانی میڈیا اندر کی باتیں باہر لے آیا

سخت شرائط نے مذاکرات سبوتاژ کر دیے،ایرانی میڈیا اندر کی باتیں باہر لے آیا

by ahmedportugal
17 views
A+A-
Reset

تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد ایرانی میڈیا نے اندرونی تفصیلات سامنے لاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سخت اور غیر لچکدار شرائط نے معاہدے کی راہ مسدود کر دی،فریقین کے درمیان کئی اہم معاملات پر بات چیت ہوئی تاہم امریکی مطالبات کو ایران نے ناقابل قبول قرار دیا،جس کے باعث مذاکرات کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکے اور ممکنہ معاہدہ محض ایک خواب بن کر رہ گیا،واشنگٹن کی جانب سے ایسے نکات پیش کیے گئے جو نہ صرف سخت تھے بلکہ ماضی کے تنازعات کے دوران بھی حاصل نہیں کیے جا سکے تھے،جس سے اعتماد کی فضا متاثر ہوئی اور مشترکہ فریم ورک تشکیل دینے میں مشکلات پیش آئیں۔
ایگزو نیوزکے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری اہم اور حساس مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں،جس کے بعد خطے میں غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے اور کشیدگی میں اضافے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک متعدد اہم معاملات پر اتفاق رائے حاصل کرنے میں ناکام رہے،جس کے باعث مذاکرات کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجہ امریکا کے سخت اور غیر لچکدار مطالبات تھے،جنہیں ایران نے نا قابلِ قبول قرار دیا۔

رپورٹس کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے ایسے نکات پیش کیے گئے جو ایران کے بقول جنگ کے دوران بھی حاصل نہیں کیے جا سکے تھے، جس کے باعث مشترکہ فریم ورک تشکیل دینے اور کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کی راہ مسدود ہو گئی۔مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز، ایران کے جوہری حقوق، پابندیوں کے خاتمے اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال جیسے اہم اور حساس موضوعات زیر بحث آئے تاہم ان معاملات پر دونوں فریقین کے درمیان شدید اختلافات برقرار رہے،جو کسی بھی پیش رفت میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوئے۔

ایرانی ذرائع کے مطابق اگرچہ مذاکرات کسی معاہدے پر منتج نہیں ہو سکے تاہم فوری طور پر آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنی پالیسی پر قائم ہے اور کسی دباو میں آنے کو تیار نہیں۔دوسری جانب سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکراتی وفد کے ہمراہ اسلام آباد سے واپس امریکا روانہ ہو گئے ہیں،جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ فی الحال مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ان مذاکرات کی ناکامی نہ صرف امریکا اور ایران کے تعلقات میں مزید تناو کا باعث بن سکتی ہے بلکہ اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے،اگر جلد سفارتی سطح پر پیش رفت نہ ہوئی تو کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ مستقبل میں مذاکرات کی بحالی کے امکانات کا دارومدار دونوں فریقین کی لچک اور سنجیدگی پر منحصر ہو گا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز